/ Sep 19, 2026
Trending
الف نیوز شمارہ نمبر: 149؛ تاریخ: 13 مارچ 2026؛ مدیرِ اعلی: سیّد اکبر زاہد
سیّد اکبر زاہد
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران امریکی سینیٹر Lindsey Graham کی جانب سے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کو دیا گیا انتباہ ایک بار پھر عالمی سیاست کی اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ طاقتور ممالک اکثر اخلاقی اصولوں سے زیادہ اپنی بالادستی کو مقدم رکھتے ہیں۔
گراہم نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب اور خلیجی ممالک ایران کے خلاف زیادہ فعال کردار ادا نہیں کرتے تو اس کے “سنگین نتائج” ہوں گے۔ یہ بیان محض ایک سیاسی تبصرہ نہیں بلکہ ایک ایسی ذہنیت کی عکاسی ہے جو عالمی سیاست کو طاقت اور دباؤ کے ذریعے چلانا چاہتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ کشیدگی کی ابتدا اسی وقت ہوئی جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع کیں۔ اس کے بعد Iran نے اپنے دفاع کے حق کا استعمال کیا، جسے بین الاقوامی قانون بھی تسلیم کرتا ہے۔ ایران کی جانب سے بارہا خبردار کیا گیا کہ اس کی سرزمین پر حملہ نہ کیا جائے، مگر اس کے باوجود کارروائیاں جاری رہیں۔
اب جب کہ جنگ طویل ہوتی جا رہی ہے اور اس کے اثرات عالمی معیشت اور خطے کے امن پر پڑ رہے ہیں، تو امریکہ کی جانب سے مسلم ممالک پر دباؤ ڈالنے کی کوششیں ایک نئے سوال کو جنم دیتی ہیں:
کیا عالمی سیاست اب بھی اسی پرانے اصول پر چل رہی ہے کہ طاقتور کا فیصلہ ہی قانون ہے؟
امریکہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ ایران کی حکومت کو ختم کرنے کے لیے روزانہ اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے۔ مگر یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا کسی ملک کی سیاسی ساخت کو تبدیل کرنا کسی بیرونی طاقت کا حق ہے؟ بین الاقوامی نظام کی بنیاد تو خود مختاری اور قومی وقار پر رکھی گئی تھی۔
یہ بھی ایک ستم ظریفی ہے کہ وہ ممالک جو خود کو جمہوریت اور آزادی کا علمبردار کہتے ہیں، وہی اکثر دوسرے ممالک کو اپنی سیاسی ترجیحات کے تابع کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ خلیجی ممالک سے یہ توقع کرنا کہ وہ کسی جنگ میں لازماً امریکہ کا ساتھ دیں، دراصل ان کی خودمختاری کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔
دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ طاقت کے پرانے توازن ٹوٹ رہے ہیں اور نئی عالمی حقیقتیں جنم لے رہی ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی طاقت اب بھی یہ سمجھتی ہے کہ وہ پوری دنیا کو دھمکیوں کے ذریعے اپنی مرضی کے مطابق چلا سکتی ہے تو یہ شاید تاریخ کے بدلتے ہوئے رخ کو نہ سمجھنے کے مترادف ہے۔
دنیا کے ہر ملک کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے امن، وقار اور سلامتی کو مقدم رکھے۔ عالمی سیاست کا مستقبل دھمکیوں یا جنگوں میں نہیں بلکہ انصاف، مکالمے اور باہمی احترام میں پوشیدہ ہے۔
اور شاید یہی وہ پیغام ہے جو آج کے بحران کے بیچ سے پوری دنیا کو سنائی دینا چاہیے۔
It is a long established fact that a reader will be distracted by the readable content of a page when looking at its layout. The point of using Lorem Ipsum is that it has a more-or-less normal distribution
Copyright BlazeThemes. 2023
Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.