25°
Sunny, April 14, 2026 in Kathmandu
سری لنکا کے جنوبی ساحل سے قریب ایرانی جہاز پر امریکی حملہ سے جہاز غرق


ایران، امریکہ اور اسرائیل کے تصادم نے دنیا کو نئے بحران کے دہانے پر لا کھڑا کیا

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ نے اب ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق امریکہ کی ایک آبدوز نے سری لنکا کے جنوبی ساحل کے قریب ایرانی بحریہ کے جنگی جہاز IRIS Dena کو نشانہ بنا کر غرق کر دیا۔ اس واقعے نے نہ صرف خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا بلکہ بحرِ ہند کے نسبتاً پُرسکون سمندری پانیوں کو بھی عالمی طاقتوں کے تصادم کا میدان بنا دیا ہے۔

سری لنکا کی بحریہ کے مطابق اس جنگی جہاز پر تقریباً 180 افراد سوار تھے۔ حادثے کے بعد سمندر میں امدادی کارروائی شروع کی گئی جس کے نتیجے میں اب تک 32 ملاحوں کو زندہ بچا لیا گیا ہے جبکہ چند لاشیں بھی برآمد ہوئی ہیں۔ تاہم ہلاکتوں کی حتمی تعداد ابھی واضح نہیں ہو سکی۔ اس واقعے نے خطے کے ممالک کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کیونکہ جنگ کی لپیٹ اب خلیج فارس سے نکل کر بحرِ ہند تک پھیلتی دکھائی دے رہی ہے۔

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ اپنے پانچویں دن میں داخل ہو چکی ہے۔ اسرائیلی فضائیہ نے تہران میں ایرانی سیکیورٹی اداروں اور پاسدارانِ انقلاب کے مراکز کو نشانہ بنایا ہے جبکہ لبنان میں بھی حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملے جاری ہیں۔ دوسری جانب ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے — وہ تنگ آبی گزرگاہ جس سے دنیا کی توانائی کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اگر یہ دعویٰ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو عالمی معیشت پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ادھر ایران کے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین بھی غیر معمولی عوامی شرکت کے خدشے کے باعث مؤخر کر دی گئی ہے۔ ایرانی قیادت تیزی سے نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کی کوشش کر رہی ہے، مگر اسرائیل کے وزیر دفاع نے دھمکی دی ہے کہ جو بھی ایران کی قیادت سنبھالے گا وہ اسرائیل کے حملوں کا ممکنہ ہدف بن سکتا ہے۔ اس بیان نے پہلے سے سلگتی ہوئی کشیدگی کو مزید بھڑکا دیا ہے۔

اس تنازع کے اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہے۔ خلیج کے ممالک میں میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ سعودی عرب کی اہم تیل تنصیبات اور بحری جہاز بھی خطرات کی زد میں آ چکے ہیں۔ کئی ممالک نے اپنے شہریوں کو خطے سے نکالنے کے لیے خصوصی پروازیں شروع کر دی ہیں۔ بھارت نے بھی مغربی ایشیا میں موجود اپنے شہریوں کی مدد کے لیے وزارتِ خارجہ میں ایک خصوصی کنٹرول روم قائم کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے بعض ماہرین نے اس جنگ کو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی روح کے منافی قرار دیا ہے اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طاقت کے اس بے قابو استعمال نے عالمی امن کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں سے واپسی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔

یوں لگتا ہے کہ یہ جنگ صرف ایران، اسرائیل یا امریکہ کی جنگ نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا کے سیاسی، معاشی اور انسانی توازن کو متاثر کر رہے ہیں۔ بحرِ ہند کے پانیوں میں ڈوبتا ہوا ایک جنگی جہاز دراصل اس حقیقت کی علامت بن گیا ہے کہ جدید دنیا میں جنگ کی سرحدیں سمندروں، فضاؤں اور معیشتوں تک پھیل چکی ہیں — اور اس کی گونج انسانیت کے ضمیر تک سنائی دے رہی ہے۔


War Echoes Across the Sea — Iran, the United States and Israel Push the World Toward a Dangerous Brink

The ongoing conflict in West Asia has taken a dramatic and alarming turn. In a major development, a U.S. submarine reportedly sank an Iranian naval warship, IRIS Dena, off the southern coast of Sri Lanka. The incident has not only intensified tensions in the region but has also brought the waters of the Indian Ocean — traditionally distant from Middle Eastern battlefields — into the orbit of a widening geopolitical confrontation.

According to Sri Lankan authorities, around 180 sailors were on board the vessel when the distress call was issued. Rescue operations launched by the Sri Lankan Navy managed to save at least 32 sailors, while several bodies were recovered from the sea. The final casualty count remains uncertain, but the incident has already sparked deep concern among regional powers, as the conflict appears to be expanding beyond its original geographical boundaries.

This maritime episode comes as the Iran–Israel war enters its fifth day. Israel has launched fresh waves of air strikes on Tehran, targeting command centers of Iran’s Revolutionary Guards and other security institutions. At the same time, Israeli forces have intensified operations against Hezbollah positions in Lebanon. Iran, meanwhile, has declared that it now has “complete control” over the strategic Strait of Hormuz — the vital maritime corridor through which a significant portion of the world’s energy supply flows. Any disruption in this passage could send shockwaves across global markets.

Adding to the turmoil, the state funeral of Iran’s late Supreme Leader Ayatollah Ali Khamenei has been postponed due to expectations of massive public participation. Iranian authorities are reportedly moving quickly to select a successor, though Israel’s Defence Minister has warned that whoever assumes the role could become a target of assassination — a statement that has further inflamed tensions.

The consequences of the conflict are now reverberating far beyond the immediate battlefield. Missile and drone strikes have been reported across the Gulf region, and key energy installations in Saudi Arabia have faced potential threats. Shipping routes, oil markets, and international flight operations have all been disrupted. Governments across the world have begun evacuating their citizens from the region, while India has established a special control room within its Ministry of External Affairs to assist Indian nationals in West Asia.

United Nations experts have condemned the military escalation, stating that such actions violate the spirit of the UN Charter and international law. They warn that the unchecked use of force could push the global order into a deeper crisis.

What began as a regional confrontation now appears to be evolving into a broader geopolitical storm. The sinking of a warship in the Indian Ocean is more than a military incident — it is a symbol of a world where conflicts no longer remain confined to borders. Instead, they ripple across seas, economies, and societies, reminding humanity that the echoes of war travel far beyond the battlefield.

Leave a Reply

کیا دنیا ایک نئی صلیبی جنگ کے دہانے پر ہے؟

عالمی سیاست، مذہبی بیانیہ اور مسلم دنیا کا مستقبل سیّد اکبر زاہد حالیہ برسوں میں عالمی سیاست کا منظرنامہ نہایت پیچیدہ اور تشویشناک ہوتا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں، طاقت کے نئے توازن کی کشمکش، اور عالمی طاقتوں کی اسٹریٹیجک ترجیحات نے دنیا کو ایک بار پھر اس سوال کے سامنے لا کھڑا…

Keep reading
  • قرآنی پیغام برائے پوری انسانیت
    يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰكُمۡ مِّنۡ ذَكَرٍ وَّاُنۡثٰى وَجَعَلۡنٰكُمۡ شُعُوۡبًا وَّقَبَآٮِٕلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ اِنَّ اَكۡرَمَكُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ اَ تۡقٰٮكُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ خَبِيۡرٌ‏  ( سورۃ الحجرات: ١٣) ترجمہ: اے لوگو ! ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے ایک مرد اور ایک عورت سے اور ہم نے تمہیں مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کردیا ہے تاکہ… Read more: قرآنی پیغام برائے پوری انسانیت

میری دو طرحی غزلیں

اکبر زاہد طرحی مصرع: عکس تیرا ہے دل کے درپن میں عکس تیرا ہے دل کے درپن میںنور پھیلا ہوا ہے  تن من میں تیری یادوں کا اک سمندر ہےموج در موج ہے مرے بن میں میں نے ہر سو تجھی کو دیکھا ہےتو ہی موجود  جابجا  فن میں دل کی ویرانیاں مہک اٹھیںذکر آیا…

Keep reading
مارچ 2026
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
 1
2345678
9101112131415
16171819202122
23242526272829
3031  

Support Us

ICICI Bank
Vaniyambadi Branch
AKBAR ZAHID
Account No
619101000662
IFSC Code: ICI0006191

Discover more from Alif News الف نیوز

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading