
عالمی سفارت کا نیا باب
تل ابیب / یروشلم سے خصوصی رپورٹ
جب عالمی سیاست کے افق پر کشیدگی کے بادل منڈلا رہے ہوں، تب سفارت کے چراغ اور زیادہ روشن دکھائی دیتے ہیں۔
Narendra Modi اسرائیل پہنچے تو Benjamin Netanyahu نے نہ صرف سرخ قالین بچھایا بلکہ شخصی گرمجوشی سے استقبال کر کے دوستی کے اس باب کو اور گہرا کر دیا جو نو برس قبل کھلا تھا۔
یہ گزشتہ نو برسوں میں وزیرِاعظم مودی کا اسرائیل کا دوسرا دورہ ہے — ایک ایسا دورہ جو محض رسمی نہیں بلکہ اسٹریٹجک اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔
بن گوریان ہوائی اڈے پر استقبالیہ تقریب کے بعد دونوں رہنماؤں کی مختصر مگر اہم ملاقات ہوئی۔ گفتگو میں دفاع، سائنس و ٹیکنالوجی، پانی کے انتظام، زراعت، سرمایہ کاری اور خطے کی مجموعی صورتحال زیرِ بحث آئی۔
وزیرِاعظم مودی نے اسے دوستی کو نئی جہت دینے کا موقع قرار دیا جبکہ نیتن یاہو نے دونوں کے قریبی شخصی تعلق کو دو ریاستوں کے مضبوط رشتے کی علامت کہا۔
دفاعی اشتراک: ’سدرشن چکر‘ اور آئرن ڈوم
Iron Dome اسرائیل کا وہ دفاعی نظام ہے جس نے مشرقِ وسطیٰ کی فضا میں اپنی افادیت ثابت کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بھارت اپنے مجوزہ فضائی دفاعی نظام “سدرشن چکر” میں آئرن ڈوم کے بعض تکنیکی پہلوؤں سے استفادہ کرنا چاہتا ہے۔
دفاعی تعاون دونوں ممالک کے تعلقات کا مرکزی ستون بن چکا ہے، اور گزشتہ برس دفاعی معاہدے اس سمت میں مزید پیش رفت کا اشارہ دیتے ہیں۔
تجارت اور ایف ٹی اے کی راہ
دونوں ممالک کے درمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ (FTA) پر بات چیت جاری ہے۔ ستمبر میں باہمی سرمایہ کاری معاہدہ طے پایا جبکہ نومبر میں مذاکرات کی باضابطہ بنیاد رکھی گئی۔
کشیدہ خطہ، مضبوط تعلق
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں تناؤ برقرار ہے اور عالمی طاقتوں کے درمیان تعلقات میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں بھارت اور اسرائیل کا باہمی تعاون سفارتی توازن اور اسٹریٹجک خودمختاری کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
اسرائیل میں مقیم تقریباً 41 ہزار افراد پر مشتمل بھارتی برادری نے وزیرِاعظم کا پرتپاک استقبال کیا۔ ثقافتی پروگراموں نے دونوں قوموں کی دوستی کو رنگوں اور نغموں میں ڈھال دیا —
الف نیوز کا مؤقف
سفارت محض معاہدوں کا نام نہیں،
یہ اعتماد کے بیج بونے کا عمل ہے۔
جب دو قومیں دفاع اور تجارت کی زبان میں بات کرتی ہیں تو دراصل وہ مستقبل کی سلامتی اور خوشحالی کا نقشہ بنا رہی ہوتی ہیں۔
مگر اس سب کے درمیان ایک سوال ہمیشہ زندہ رہتا ہے:
کیا طاقت کا توازن انسانیت کے توازن کو بھی مضبوط کرے گا؟
الف نیوز کا موقف یہی ہے کہ
عالمی شراکت داری کا اصل حسن تب ہے جب وہ امن، استحکام اور انسانی وقار کی حفاظت کا ذریعہ بنے۔





Leave a Reply