الف نیوز شمارہ نمبر: 113؛ تاریخ: 4 فروری 2025؛ مدیرِ اعلی: سیّد اکبر زاہد
اداریہ | آج کی خبر، کل کی انسانیت
سیّد اکبر زاہد
آج کی خبریں کسی شوریدہ خواب کی مانند ہیں—ہر سطر میں اضطراب، ہر سرخی میں ہڑبونگ، اور ہر بریکنگ نیوز کے پیچھے ایک خاموش سچ جو سننے والا ڈھونڈتا رہ جاتا ہے۔ ہم واقعات کی گنتی تو خوب جانتے ہیں، مگر ان کے زخم گننے سے کتراتے ہیں۔ طاقت کی کشمکش، سیاست کی بساط، معیشت کی لغزشیں اور جنگ و امن کی مبہم لکیریں—سب کچھ سامنے ہے، مگر انسان کہاں ہے؟
خبر آج صرف اطلاع نہیں رہی؛ وہ تماشہ بن چکی ہے۔ الفاظ کی تیزی نے احساس کی گہرائی کو روند ڈالا ہے۔ چیخیں اس قدر بلند ہیں کہ آہٹ سنائی نہیں دیتی۔ سوال یہ نہیں کہ آج کیا ہوا، سوال یہ ہے کہ آج کون ٹوٹا؟ کس کی امید اخبار کے کاغذ میں لپٹ کر رہ گئی؟ کس کی دعا بریکنگ نیوز کے شور میں دب گئی؟
ریاستیں اپنی منطق رکھتی ہیں، منڈیاں اپنی زبان، اور طاقت اپنی دلیل—مگر انسان کی دلیل کیا ہے؟ وہ ماں جو بیٹے کی خبر ڈھونڈتی ہے، وہ مزدور جو مہنگائی کے ہجوم میں اپنی سانس گنتا ہے، وہ بچہ جو جنگ کی لغت میں کھیل تلاش کرتا ہے—یہ سب اعداد نہیں، یہ سب سرخیاں نہیں، یہ سب زندگیاں ہیں۔
ادب کا کام یہی ہے کہ خبر کے جسم میں روح پھونکے۔ صحافت اگر آئینہ ہے تو ادب اس آئینے پر جمی گرد صاف کرتا ہے۔ ہم اگر آج بھی خبر کو محض خبر رہنے دیں، تو کل انسان محض حاشیہ بن جائے گا۔ اس لیے لازم ہے کہ ہم طاقت کے بیان کے ساتھ کمزور کی سسکی بھی لکھیں؛ فیصلوں کے ساتھ ان کے اثرات بھی؛ اور کامیابیوں کے ساتھ ان کی قیمت بھی۔
آج کی خبر ہمیں ایک ہی سوال کی طرف لوٹاتی ہے: کیا ہم سچ کو تیز تر بناتے جا رہے ہیں یا سچ سے دور؟ اگر قلم نے دل سے رشتہ توڑ لیا تو زبان محض شور رہ جائے گی۔ ہمیں شور نہیں، سمجھ چاہیے—اور سمجھ تب آتی ہے جب انسان مرکز میں ہو۔
یہ اداریہ کسی ایک واقعے پر نہیں، ایک رویّے پر ہے۔ خبر کو انسان کے قد کے مطابق لکھنے کی اپیل ہے۔ کہ کل جب تاریخ پلٹے، تو سرخیوں کے نیچے انسان سلامت ملے—زخمی سہی، مگر گمشدہ نہیں۔





Leave a Reply