
شبِ برأت وہ رات نہیں جو شور مانگتی ہو، نہ وہ چراغاں کی طلب گار ہے، نہ رسم و رواج کے ہجوم میں اپنا تعارف چاہتی ہے۔ یہ تو خاموشی کی اوٹ میں آتی ہے، آہستہ قدم رکھتی ہے، اور دل کے دروازے پر دستک دیتی ہے۔ جو جاگ رہا ہو، وہ سن لیتا ہے۔ جو سو رہا ہو، اس کے لیے یہ رات بھی عام راتوں جیسی گزر جاتی ہے۔
یہ شعبان کی وہ ساعت ہے جب انسان پہلی بار خود کو سنتا ہے۔ دن بھر کی مصروفیات، برسوں کی الجھنیں، انا کے بوجھ اور خواہشوں کے شور کے بعد، دل کو ایک لمحہ میسر آتا ہے کہ وہ اپنے رب کے سامنے رکھ دیا جائے—بے پردہ، بے جواز، بے دلیل۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں شبِ برأت شروع ہوتی ہے۔
قرآن ہمیں کسی ایک رات کا پابند نہیں بناتا، مگر امید کا چراغ ہر وقت روشن رکھتا ہے۔
“اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو” — یہ صدا ہر دور، ہر انسان اور ہر گناہ کے لیے ہے۔ مگر کچھ راتیں ایسی ہوتی ہیں جب یہ صدا اور قریب آ جاتی ہے، جیسے آسمان جھک آیا ہو اور فاصلہ کم ہو گیا ہو۔ شبِ برأت اسی قرب کا استعارہ ہے۔
روایات میں آتا ہے کہ اس رات رحمت عام ہوتی ہے، مغفرت کے دروازے کھلتے ہیں، اور بہت سے نام معافی کی فہرست میں درج ہو جاتے ہیں۔ مگر یہ سب کسی اعلان کے ساتھ نہیں ہوتا، نہ کسی مخصوص ظاہری عمل کے شور میں۔ یہ سب دل کے حال سے جڑا ہے۔ کینہ، ضد، غرور—یہ وہ بوجھ ہیں جو انسان خود اٹھائے رکھتا ہے، اور یہی وہ پردے ہیں جو رحمت کے سامنے حائل ہو جاتے ہیں۔ اس رات کا سب سے بڑا عمل شاید یہی ہے کہ انسان اپنے دل کو ہلکا کر لے۔
اسی ہلکے دل کے ساتھ جب کوئی اپنے مرحومین کو یاد کرتا ہے تو وہ یاد بھی عبادت بن جاتی ہے۔ قبرستان جانا ہو یا نہ جانا ہو، اصل بات یہ نہیں؛ اصل بات یہ ہے کہ دل میں دعا جاگے۔ اگر کوئی اپنے والدین، اپنے بزرگوں، اپنے بچھڑ جانے والوں کے لیے اچھا کھانا بناتا ہے اور خاموشی سے ضرورت مندوں میں تقسیم کر دیتا ہے تو یہ محض کھانا نہیں رہتا، یہ محبت بن جاتا ہے۔ یہ ایصالِ ثواب ہے—نہ لازم، نہ فرض، نہ رسم—بس ایک نرم نیت، جو اللہ تک پہنچ جاتی ہے۔
شبِ برأت ہمیں یہ نہیں سکھاتی کہ ہم کیا دکھائیں، بلکہ یہ یاد دلاتی ہے کہ ہم کیا بدلیں۔ یہ رات اعمال کی فہرست نہیں مانگتی، یہ دل کی کیفیت دیکھتی ہے۔ ایک سچی توبہ، ایک خاموش دعا، ایک آنسو جو کسی نے نہ دیکھا ہو—شاید یہی وہ سرمایہ ہے جو اس رات قبولیت کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
آخرکار، شبِ برأت کوئی الگ دن نہیں بناتی، یہ اگلے دن کو بہتر بنانے کی امید دیتی ہے۔ یہ انسان کو آئینہ دکھا کر رخصت ہو جاتی ہے۔ اب یہ ہم پر ہے کہ ہم اس آئینے کو بھلا دیتے ہیں یا اپنی صورت سنوار لیتے ہیں۔




Leave a Reply