25°
Sunny, April 14, 2026 in Kathmandu

شبِ برآت

شبِ برآت

Image

شبِ برأت وہ رات نہیں جو شور مانگتی ہو، نہ وہ چراغاں کی طلب گار ہے، نہ رسم و رواج کے ہجوم میں اپنا تعارف چاہتی ہے۔ یہ تو خاموشی کی اوٹ میں آتی ہے، آہستہ قدم رکھتی ہے، اور دل کے دروازے پر دستک دیتی ہے۔ جو جاگ رہا ہو، وہ سن لیتا ہے۔ جو سو رہا ہو، اس کے لیے یہ رات بھی عام راتوں جیسی گزر جاتی ہے۔

یہ شعبان کی وہ ساعت ہے جب انسان پہلی بار خود کو سنتا ہے۔ دن بھر کی مصروفیات، برسوں کی الجھنیں، انا کے بوجھ اور خواہشوں کے شور کے بعد، دل کو ایک لمحہ میسر آتا ہے کہ وہ اپنے رب کے سامنے رکھ دیا جائے—بے پردہ، بے جواز، بے دلیل۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں شبِ برأت شروع ہوتی ہے۔

قرآن ہمیں کسی ایک رات کا پابند نہیں بناتا، مگر امید کا چراغ ہر وقت روشن رکھتا ہے۔
“اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو” — یہ صدا ہر دور، ہر انسان اور ہر گناہ کے لیے ہے۔ مگر کچھ راتیں ایسی ہوتی ہیں جب یہ صدا اور قریب آ جاتی ہے، جیسے آسمان جھک آیا ہو اور فاصلہ کم ہو گیا ہو۔ شبِ برأت اسی قرب کا استعارہ ہے۔

روایات میں آتا ہے کہ اس رات رحمت عام ہوتی ہے، مغفرت کے دروازے کھلتے ہیں، اور بہت سے نام معافی کی فہرست میں درج ہو جاتے ہیں۔ مگر یہ سب کسی اعلان کے ساتھ نہیں ہوتا، نہ کسی مخصوص ظاہری عمل کے شور میں۔ یہ سب دل کے حال سے جڑا ہے۔ کینہ، ضد، غرور—یہ وہ بوجھ ہیں جو انسان خود اٹھائے رکھتا ہے، اور یہی وہ پردے ہیں جو رحمت کے سامنے حائل ہو جاتے ہیں۔ اس رات کا سب سے بڑا عمل شاید یہی ہے کہ انسان اپنے دل کو ہلکا کر لے۔

اسی ہلکے دل کے ساتھ جب کوئی اپنے مرحومین کو یاد کرتا ہے تو وہ یاد بھی عبادت بن جاتی ہے۔ قبرستان جانا ہو یا نہ جانا ہو، اصل بات یہ نہیں؛ اصل بات یہ ہے کہ دل میں دعا جاگے۔ اگر کوئی اپنے والدین، اپنے بزرگوں، اپنے بچھڑ جانے والوں کے لیے اچھا کھانا بناتا ہے اور خاموشی سے ضرورت مندوں میں تقسیم کر دیتا ہے تو یہ محض کھانا نہیں رہتا، یہ محبت بن جاتا ہے۔ یہ ایصالِ ثواب ہے—نہ لازم، نہ فرض، نہ رسم—بس ایک نرم نیت، جو اللہ تک پہنچ جاتی ہے۔

شبِ برأت ہمیں یہ نہیں سکھاتی کہ ہم کیا دکھائیں، بلکہ یہ یاد دلاتی ہے کہ ہم کیا بدلیں۔ یہ رات اعمال کی فہرست نہیں مانگتی، یہ دل کی کیفیت دیکھتی ہے۔ ایک سچی توبہ، ایک خاموش دعا، ایک آنسو جو کسی نے نہ دیکھا ہو—شاید یہی وہ سرمایہ ہے جو اس رات قبولیت کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

آخرکار، شبِ برأت کوئی الگ دن نہیں بناتی، یہ اگلے دن کو بہتر بنانے کی امید دیتی ہے۔ یہ انسان کو آئینہ دکھا کر رخصت ہو جاتی ہے۔ اب یہ ہم پر ہے کہ ہم اس آئینے کو بھلا دیتے ہیں یا اپنی صورت سنوار لیتے ہیں۔

Leave a Reply

کیا دنیا ایک نئی صلیبی جنگ کے دہانے پر ہے؟

عالمی سیاست، مذہبی بیانیہ اور مسلم دنیا کا مستقبل سیّد اکبر زاہد حالیہ برسوں میں عالمی سیاست کا منظرنامہ نہایت پیچیدہ اور تشویشناک ہوتا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں، طاقت کے نئے توازن کی کشمکش، اور عالمی طاقتوں کی اسٹریٹیجک ترجیحات نے دنیا کو ایک بار پھر اس سوال کے سامنے لا کھڑا…

Keep reading
  • قرآنی پیغام برائے پوری انسانیت
    يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰكُمۡ مِّنۡ ذَكَرٍ وَّاُنۡثٰى وَجَعَلۡنٰكُمۡ شُعُوۡبًا وَّقَبَآٮِٕلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ اِنَّ اَكۡرَمَكُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ اَ تۡقٰٮكُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ خَبِيۡرٌ‏  ( سورۃ الحجرات: ١٣) ترجمہ: اے لوگو ! ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے ایک مرد اور ایک عورت سے اور ہم نے تمہیں مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کردیا ہے تاکہ… Read more: قرآنی پیغام برائے پوری انسانیت

میری دو طرحی غزلیں

اکبر زاہد طرحی مصرع: عکس تیرا ہے دل کے درپن میں عکس تیرا ہے دل کے درپن میںنور پھیلا ہوا ہے  تن من میں تیری یادوں کا اک سمندر ہےموج در موج ہے مرے بن میں میں نے ہر سو تجھی کو دیکھا ہےتو ہی موجود  جابجا  فن میں دل کی ویرانیاں مہک اٹھیںذکر آیا…

Keep reading
فروری 2026
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
 1
2345678
9101112131415
16171819202122
232425262728  

Support Us

ICICI Bank
Vaniyambadi Branch
AKBAR ZAHID
Account No
619101000662
IFSC Code: ICI0006191

Discover more from Alif News الف نیوز

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading