معاملہ سپریم کورٹ میں: 30 جنوری کو الیکشن کمیشن سے ہوگا سوال
جمہوریت کی بنیاد جن ووٹروں پر استوار ہوتی ہے، جب وہی ووٹر فہرستوں سے خاموشی کے ساتھ خارج ہونے لگیں تو سوال صرف انتخابی عمل کا نہیں رہتا، بلکہ ریاست اور شہری کے باہمی اعتماد کا بن جاتا ہے۔ تمل ناڈو میں جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے دوران سامنے آنے والی یہی تشویش اب سپریم کورٹ کی دہلیز تک آن پہنچی ہے۔
تمل ناڈو کی حکمراں جماعت دراوِڑ منیترا کزگم (DMK) کے رہنماؤں نے عدالتِ عظمیٰ کو آگاہ کیا ہے کہ مسودہ انتخابی فہرستوں سے خارج کیے گئے 88 فیصد ووٹروں کو نہ تو سماعت کا موقع دیا گیا، نہ ہی کوئی باضابطہ نوٹس ارسال کیا گیا۔ اس سنگین انکشاف کے بعد سپریم کورٹ نے 29 جنوری 2026 کو الیکشن کمیشن آف انڈیا کو طلب کرتے ہوئے فوری سماعت مقرر کی ہے۔
چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت کی سربراہی میں قائم بنچ کے روبرو، سینئر ایڈووکیٹ کپل سبل نے، جو درخواست گزاروں کی نمائندگی کر رہے تھے، مؤقف اختیار کیا کہ تمل ناڈو میں اعتراضات اور دعوؤں کی مدت 30 جنوری 2026 کو ختم ہو رہی ہے، ایسے میں اگر بروقت مداخلت نہ ہوئی تو لاکھوں شہری انتخابی حق سے محروم ہو سکتے ہیں۔
کپل سبل نے عدالت کو یہ بھی یاد دلایا کہ مغربی بنگال کے SIR معاملے میں سپریم کورٹ پہلے ہی 19 جنوری کو واضح ہدایات جاری کرچکی ہے، جن کا اطلاق تمل ناڈو پر بھی ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق، محض “منطقی تضادات” یا “ڈیجیٹل میپنگ” کی بنیاد پر ووٹروں کا اخراج، بغیر سماعت کے، آئینی اصولوں سے ہم آہنگ نہیں۔
یہ معاملہ محض ریاستی سیاست کا نہیں، بلکہ اس بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے کہ
کیا ووٹ کا حق انتظامی سہولت کی نذر کیا جا سکتا ہے؟
اور کیا جمہوریت میں خاموش فیصلے، شہریوں کی آواز سے بڑے ہو سکتے ہیں؟
اب نگاہیں سپریم کورٹ پر مرکوز ہیں، جہاں الیکشن کمیشن کو اپنے فیصلوں کی بنیاد اور طریقۂ کار کی وضاحت دینی ہوگی۔ یہ سماعت نہ صرف تمل ناڈو، بلکہ پورے ملک کے انتخابی نظام کے لیے ایک نظیر ثابت ہو سکتی ہے—یا تو شفافیت کی توثیق، یا ایک نئے آئینی سوال کی ابتدا۔
الف نیوز
جہاں خبر صرف اطلاع نہیں، اجتماعی ضمیر کی گواہی بنتی ہے





Leave a Reply