ڈومز ڈے کلاک: انسانیت اب تباہی کے دہانے پر صرف پچاسی سیکنڈ دور
واشنگٹن —
انسانی تاریخ کے افق پر ایک اور سیاہ لمحہ ثبت ہو گیا ہے۔ ایٹمی سائنس دانوں کے عالمی ادارے دی بلیٹن آف دی اٹامک سائنسٹس نے خبردار کیا ہے کہ دنیا اب خود ساختہ عالمی تباہی سے محض پچاسی سیکنڈ کے فاصلے پر کھڑی ہے۔ ڈومز ڈے کلاک کی سوئیاں، جو انسان کے اجتماعی ضمیر کی علامت سمجھی جاتی ہیں، مزید آگے بڑھا دی گئی ہیں—اور یہ لمحہ اس گھڑی کی تاریخ میں آدھی رات کے سب سے قریب ترین مقام کی نشاندہی کرتا ہے۔
یہ اعلان 27 جنوری 2026ء کو واشنگٹن میں کیا گیا، جہاں ماہرینِ ایٹمیات اور عالمی سلامتی کے نگہبانوں نے ایک ایسے دور کا نقشہ کھینچا جو اضطراب، عدمِ اعتماد اور عالمی توازن کے بکھرنے سے عبارت ہے۔ ان کے مطابق جو خطرات کبھی نظری تھے، اب عملی صورت اختیار کر چکے ہیں—ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ، یورپ و ایشیا میں بھڑکتے تصادم، ماحولیاتی بحران، حیاتیاتی خطرات اور ایک منقسم عالمی نظام۔
ادارے کے چیئرمین اور یونیورسٹی آف شکاگو کے پروفیسر ڈینیئل ہولز نے نہایت تشویش کے ساتھ کہا کہ گزشتہ برس دنیا کو خبردار کیا گیا تھا کہ وہ تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے اور بین الاقوامی تعاون ہی نجات کا واحد راستہ ہے، مگر افسوس کہ قومیں اس تنبیہ کو سننے کے بجائے مزید جارح، خود غرض اور قوم پرستانہ رویوں کی طرف بڑھ گئیں۔
ڈومز ڈے کلاک گزشتہ برس 89 سیکنڈ پر تھی، جسے اب مزید آگے بڑھا دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایٹمی خطرہ بدستور سب سے بڑا اندیشہ ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکہ اور روس کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں کی حد بندی کا آخری معاہدہ اپنی مدت پوری کرنے والا ہے۔ اگر یہ معاہدہ ختم ہوا تو نصف صدی بعد دنیا پہلی بار کسی مؤثر روک ٹوک کے بغیر ایک نئی ایٹمی دوڑ میں داخل ہو جائے گی۔
اس کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تبدیلی کی تباہ کاریاں، مصنوعی ذہانت کے ذریعے پھیلتی گمراہ کن معلومات، جمہوری اقدار کا زوال، اور نئی قسم کی مصنوعی حیاتیات جیسے خطرات بھی انسانی مستقبل پر منڈلاتے سائے کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔
یاد رہے کہ ڈومز ڈے کلاک پہلی بار 1947ء میں ترتیب دی گئی تھی—ایک علامت، ایک تنبیہ، ایک خاموش چیخ۔ یہ گھڑی 1991ء میں سرد جنگ کے خاتمے پر سب سے زیادہ محفوظ مقام، یعنی سترہ منٹ دور جا پہنچی تھی۔ مگر اس کے بعد انسان نے امن کے اس لمحے کو سنبھالنے کے بجائے اسے ضائع کر دیا۔
آج، جب گھڑی کی سوئیاں آدھی رات سے صرف پچاسی سیکنڈ دور ہیں، یہ سوال پوری انسانیت کے سامنے کھڑا ہے:
کیا ہم وقت کی اس آخری صدا کو سن پائیں گے؟
یا تاریخ ہمیں اس گھڑی کے نیچے دفن کر دے گی، جسے ہم نے خود اپنے ہاتھوں سے آگے بڑھایا؟





Leave a Reply