25°
Sunny, April 14, 2026 in Kathmandu
پروفیسر شفیع شوق کو پدم شری — کشمیر کے فکری ورثے کو قومی سلام


علم و زبان کی خاموش خدمت کا اعتراف

پروفیسر شفیع شوق کو پدم شری

سری نگر | 26 جنوری 2026

کشمیر کی فکری، ادبی اور لسانی روایت کو قومی سطح پر ایک باوقار اعتراف حاصل ہوا ہے۔ ممتاز کشمیری عالم، شاعر، ماہرِ لسانیات اور مترجم پروفیسر شفیع شوق کو تعلیم، زبان اور ادب کے میدان میں گراں قدر خدمات کے اعتراف میں پدم شری ایوارڈ 2026 سے نوازا گیا ہے، جو بھارت کا چوتھا اعلیٰ ترین سول اعزاز ہے۔

پدم شری جیسے وقار آمیز اعزاز پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے پروفیسر شفیع شوق نے کہا کہ یہ لمحہ ان کے لیے غیر معمولی مسرت اور فخر کا باعث ہے۔

“میں نے زندگی میں کئی اعزازات حاصل کیے، مگر پدم شری ان چند خوش نصیب افراد کو دیا جاتا ہے جن کی خدمات معاشرے میں دیرپا اثر چھوڑتی ہیں۔ اس فہرست میں شامل ہونا میرے لیے باعثِ افتخار ہے۔”

انہوں نے کہا کہ انہیں یہ اطلاع صبح سویرے فون کے ذریعے دی گئی، اور اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ متعلقہ حکام ان کی علمی و ادبی تصانیف سے بخوبی واقف ہیں۔

“میں نے کبھی انعام یا شہرت کے لیے قلم نہیں اٹھایا، جو ملا اسے شکر کے ساتھ قبول کیا۔”

پروفیسر شفیع شوق کی تصانیف کی تعداد درجنوں میں ہے، جن میں کشمیری اور انگریزی زبان میں شاعری، تاریخ، لغات اور قواعد پر مبنی علمی کام شامل ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر بھی ان کی شاعرانہ خدمات کو سراہا گیا ہے۔ اس اعزاز کے ساتھ ان کا نام ان عظیم ادبی شخصیات کی صف میں شامل ہو گیا ہے، جن میں اختر محی الدین اور رحمن راہی جیسے نام شامل ہیں۔

سائنس اور انگریزی میں تعلیمی پس منظر رکھنے کے باوجود، پروفیسر شوق نے اپنی زندگی کے پچاس سے زائد برس کشمیری زبان و ادب کے لیے وقف کیے۔ وہ تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ یونیورسٹی آف کشمیر میں بطور پروفیسر خدمات انجام دیتے رہے، جہاں انہوں نے نسلوں کو علم سے روشناس کرایا اور تحقیقی شعور کو فروغ دیا۔

“اگر میرا کام طلبہ اور محققین کے کسی کام آ سکے، تو یہی میری اصل کامیابی ہے۔”

انہوں نے مقامی علمی ورثے کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک و بیرونِ ملک سے کشمیری زبان میں پودوں، پھولوں اور کیڑوں مکوڑوں کے ناموں سے متعلق سوالات موصول ہوتے رہتے ہیں۔

“زبانیں ایسے ہی علم سے تشکیل پاتی ہیں۔ شاعری ضروری ہے، مگر تحقیق اور معلوماتی تحریر بھی اتنی ہی اہم ہے۔”

نوجوان قلم کاروں کے نام اپنے پیغام میں پروفیسر شفیع شوق نے شاعری سے آگے بڑھ کر تحقیقی اور علمی تحریروں کی طرف توجہ دینے کی تلقین کی۔

“اکثر لکھنے والے شکوہ کرتے ہیں کہ لوگ انہیں نہیں پڑھتے، سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی وہ لکھ رہے ہیں جسے پڑھنے کی ضرورت محسوس کی جائے؟”


A Nation Honours a Lifetime of Quiet Scholarship

Prof Shafi Shauq Conferred Padma Shri for Services to Education and Language

Srinagar | January 26, 2026

In a moment of pride for Kashmir’s intellectual and cultural heritage, eminent scholar, poet, linguist and translator Professor Shafi Shauq has been named a recipient of the Padma Shri Award 2026, India’s fourth-highest civilian honour, in recognition of his outstanding contribution to education, language and literature.

Expressing his gratitude, Prof Shauq described the honour as deeply fulfilling.

“I have received several awards during my life, but the Padma Shri is conferred upon a select few whose work leaves a lasting impact on society. Being counted among them is a matter of immense pride for me.”

He said he was informed early in the morning and felt heartened that the authorities were well acquainted with his literary and scholarly contributions.

“I never wrote with awards in mind. I simply accepted whatever came my way,” he remarked with humility.

Prof Shauq has authored dozens of books in Kashmiri and English, covering poetry, history, dictionaries and grammatical studies. His poetic contributions have also earned him international recognition. With this honour, his name now stands alongside literary legends such as Akhtar Mohiuddin and Rehman Rahi, who were previously awarded the Padma Shri.

Despite an academic background in science and English, Prof Shauq devoted more than five decades to the service of the Kashmiri language and its literary traditions. He served as a professor at the University of Kashmir for over thirty years, mentoring students and guiding research scholars.

“If my work proves useful to students and researchers, that itself is my greatest achievement,” he said.

Emphasising the importance of preserving indigenous knowledge, Prof Shauq noted that he frequently receives inquiries from across India and abroad about Kashmiri names of plants, flowers and insects.

“Languages are shaped by such knowledge. Poetry matters, but research and information-based writing are equally essential,” he observed.

Addressing young writers, Prof Shauq encouraged them to look beyond poetry and engage in meaningful, research-driven writing.

“Writers often complain that people do not read them. My question is—are we writing something that people genuinely need to read?” he asked, urging authors to document local knowledge, environment, flora and fauna for future generations.


Leave a Reply

کیا دنیا ایک نئی صلیبی جنگ کے دہانے پر ہے؟

عالمی سیاست، مذہبی بیانیہ اور مسلم دنیا کا مستقبل سیّد اکبر زاہد حالیہ برسوں میں عالمی سیاست کا منظرنامہ نہایت پیچیدہ اور تشویشناک ہوتا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں، طاقت کے نئے توازن کی کشمکش، اور عالمی طاقتوں کی اسٹریٹیجک ترجیحات نے دنیا کو ایک بار پھر اس سوال کے سامنے لا کھڑا…

Keep reading
  • قرآنی پیغام برائے پوری انسانیت
    يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰكُمۡ مِّنۡ ذَكَرٍ وَّاُنۡثٰى وَجَعَلۡنٰكُمۡ شُعُوۡبًا وَّقَبَآٮِٕلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ اِنَّ اَكۡرَمَكُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ اَ تۡقٰٮكُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ خَبِيۡرٌ‏  ( سورۃ الحجرات: ١٣) ترجمہ: اے لوگو ! ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے ایک مرد اور ایک عورت سے اور ہم نے تمہیں مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کردیا ہے تاکہ… Read more: قرآنی پیغام برائے پوری انسانیت

میری دو طرحی غزلیں

اکبر زاہد طرحی مصرع: عکس تیرا ہے دل کے درپن میں عکس تیرا ہے دل کے درپن میںنور پھیلا ہوا ہے  تن من میں تیری یادوں کا اک سمندر ہےموج در موج ہے مرے بن میں میں نے ہر سو تجھی کو دیکھا ہےتو ہی موجود  جابجا  فن میں دل کی ویرانیاں مہک اٹھیںذکر آیا…

Keep reading
جنوری 2026
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
 1234
567891011
12131415161718
19202122232425
262728293031  

Support Us

ICICI Bank
Vaniyambadi Branch
AKBAR ZAHID
Account No
619101000662
IFSC Code: ICI0006191

Discover more from Alif News الف نیوز

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading