اسپورٹس میں سیاست اور ممکنہ پابندیوں کی نئی روش – Alif News الف نیوز : مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

اسپورٹس میں سیاست اور ممکنہ پابندیوں کی نئی روش


جب کرکٹ میدان نہیں، سفارت خانہ بن جائے

اسپورٹس میں سیاست اور ممکنہ پابندیوں کی نئی روش

کبھی کرکٹ گیند اور بلّے کی زبان میں بولتی تھی،
آج وہ نوٹس، وارننگ اور “ممکنہ پابندیوں” کے لہجے میں بات کر رہی ہے۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (ICC) نے پاکستان کو ایک ایسا اشارہ دیا ہے جس میں کھیل کم اور سیاست زیادہ جھلکتی ہے۔ اگر پاکستان نے بنگلہ دیش کی تقلید کرتے ہوئے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے کنارہ کشی اختیار کی، تو اس کے نتائج محض پوائنٹس ٹیبل تک محدود نہیں رہیں گے—بلکہ کرکٹ کے دروازے اس پر بند بھی ہو سکتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق،
یہ “نتائج” کسی اخلاقی ضابطے کا حصہ نہیں بلکہ طاقت کی زبان ہیں:
نہ کوئی دوطرفہ سیریز،
نہ پاکستان سپر لیگ کے لیے غیر ملکی کھلاڑیوں کو این او سی،
اور نہ ہی ایشیا کپ میں شرکت۔

یہ سب اس لیے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے بنگلہ دیش کے حق میں آواز اٹھائی—اور سوال کیا کہ اگر کچھ ممالک کو فیصلوں کی آزادی حاصل ہے، تو دوسروں کو کیوں نہیں؟

ان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش ایک مکمل آئی سی سی رکن ہے، اور اگر پاکستان یا بھارت کے لیے “ہائبرڈ ماڈل” قابلِ قبول ہو سکتا ہے تو ڈھاکہ کے لیے کیوں نہیں؟
یہ سوال سادہ تھا، مگر جواب میں خاموشی نہیں—دھمکی ملی۔

آئی سی سی نے بنگلہ دیش کو ورلڈ کپ سے نکال کر اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کر لیا، اور یوں یہ پیغام دیا کہ کرکٹ میں رینکنگ سے زیادہ “اطاعت” کی اہمیت ہے۔
گروپس کی تشکیل بدلی، طاقتور ٹیموں کے لیے راستے ہموار ہوئے، اور کھیل کی غیر جانبداری ایک بار پھر مشکوک نظر آئی۔

پاکستان نے ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ محسن نقوی کے مطابق، یہ فیصلہ وزیر اعظم شہباز شریف کی واپسی کے بعد ریاستی سطح پر ہوگا۔
مگر سوال یہ نہیں کہ پاکستان کھیلے گا یا نہیں—
اصل سوال یہ ہے کہ کیا کرکٹ اب بھی کھیل ہے؟

جب ادارے انصاف کے بجائے دباؤ کو اختیار کریں،
جب اصولوں کی جگہ “پابندیوں کی فہرست” رکھ دی جائے،
اور جب سوال اٹھانے کی سزا تنہائی ہو—
تو پھر اس کھیل کا نام کرکٹ نہیں رہتا،
وہ محض طاقت کی نمائش بن جاتا ہے۔

الف نیوز یہ سوال اٹھاتا ہے:
کیا کرکٹ کا مستقبل بیٹ اور بال کے ہاتھ میں ہے،
یا فائلوں، فیصلوں اور فرماں رواؤں کے؟


کیا ICC کا یہ اقدام اس کے دستور کے مطابق ہے؟

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (ICC) کے آئین کے تحت:

  • ICC کو یہ اختیار حاصل ہے کہ
    • کسی رکن کے ٹورنامنٹ سے دستبردار ہونے یا
    • بورڈ کی ہدایات کی خلاف ورزی
      کی صورت میں تادیبی اقدامات کرے۔
  • ان اقدامات میں شامل ہو سکتے ہیں:
    • ایونٹس سے اخراج
    • رکنیت کی معطلی
    • بعض کرکٹ سرگرمیوں پر پابندیاں

اس حد تک ICC کا یہ کہنا کہ "ورلڈ کپ کے بائیکاٹ کی صورت میں تادیبی کارروائی ہو سکتی ہے”
دستوری دائرے میں آتا ہے۔


اب اصل مسئلہ کہاں پیدا ہوتا ہے؟

مسئلہ اختیار کا نہیں، اطلاقِ اختیار کا ہے۔

ICC کے دستور میں یہ بھی بنیادی اصول درج ہیں کہ:

  • تمام فل ممبرز کے ساتھ برابر سلوک کیا جائے
  • فیصلے غیر جانبدار ہوں
  • کرکٹ کو سیاسی دباؤ سے محفوظ رکھا جائے

یہاں سوال اٹھتا ہے:

  • اگر ایک ملک کو ہائبرڈ ماڈل مل سکتا ہے تو دوسرے کو کیوں نہیں؟
  • اگر سکیورٹی یا سیاسی وجوہات “قابلِ قبول” ہو سکتی ہیں تو صرف کچھ کے لیے کیوں؟
  • کیا پابندیوں کی دھمکی، سوال اٹھانے کی سزا نہیں بن رہی؟

یہ وہ مقام ہے جہاں دستور کی روح مجروح ہوتی نظر آتی ہے، چاہے دستور کی شقیں پوری کی جا رہی ہوں۔



Akbar Zahid

Publisher and Editor in Chief for Alif News Bilingual Online Daily News Paper

SUBSCRIBE US

It is a long established fact that a reader will be distracted by the readable content of a page when looking at its layout. The point of using Lorem Ipsum is that it has a more-or-less normal distribution

Copyright BlazeThemes. 2023

Discover more from Alif News الف نیوز : مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading