25°
Sunny, April 14, 2026 in Kathmandu
اداریہ: ایک طالبِ علم کی موت اور ایک خاموش نظام

الف نیوز شمارہ نمبر: 104؛ تاریخ: 25 جنوری 2025؛ مدیرِ اعلی: سیّد اکبر زاہد


ایک طالب علم کی موت اور ایک خاموش نظام

سیّد اکبر زاہد

آج کی خبر کسی سیاسی بیان یا انتخابی وعدے کی نہیں،
آج کی خبر ایک انیس سالہ طالبِ علم کی لاش ہے
جو ایک نامور تعلیمی ادارے کے ہاسٹل میں پائی گئی۔

خبروں کی زبان کہتی ہے: خودکشی۔
فائلوں کی زبان کہتی ہے: حاضری کم تھی، بے ضابطگیاں تھیں۔
اور نظام مطمئن ہو کر آگے بڑھ جاتا ہے۔

مگر سوال یہ ہے:
کیا ایک طالبِ علم کی پوری زندگی
چند فیصد حاضری اور چند الزامات میں سمیٹ دی جا سکتی ہے؟

آج ہم اس ایک نوجوان کی بات نہیں کر رہے،
آج ہم اس تعلیمی ماحول کا محاسبہ کر رہے ہیں
جہاں نمبر اہم ہیں، انسان نہیں؛
جہاں کارکردگی دیکھی جاتی ہے،
مگر ذہنی دباؤ نہیں؛
جہاں ادارے کی ساکھ قیمتی ہے،
مگر طالبِ علم کی سانس نہیں۔

یہ کیسی تعلیم ہے
جس میں ناکامی کا مطلب اصلاح نہیں
بلکہ تنہائی، خوف اور شرمندگی بن جاتا ہے؟

یہ سوال بھی ضروری ہے کہ
کیا تعلیمی ادارے صرف امتحان لینے کے مراکز ہیں
یا وہ انسان بنانے کی ذمہ داری بھی رکھتے ہیں؟
کیا کسی طالبِ علم کی لغزش
اسے جینے کے حق سے محروم کر دینے کے لیے کافی ہے؟

ہم ایک ایسے سماج میں جی رہے ہیں
جہاں بچوں سے کہا جاتا ہے:
کامیاب ہو جاؤ، ورنہ بوجھ ہو۔
اور جب کوئی اس دوڑ میں گر پڑتا ہے
تو ہم افسوس کے دو جملے لکھ کر
اگلے دن کی خبر میں گم ہو جاتے ہیں۔

الف نیوز یہ مانتا ہے کہ
یہ محض ایک موت نہیں،
یہ ایک سسٹم فیلئر ہے—
ایسا نظام جو دباؤ تو پیدا کرتا ہے
مگر سہارا دینا نہیں جانتا۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ
تعلیمی اداروں میں
کاؤنسلنگ محض کاغذی خانہ نہ ہو،
انتظامیہ جواب دہ ہو،
اور ہر طالبِ علم کو یہ یقین ہو
کہ ناکامی جرم نہیں،
اور مدد مانگنا کمزوری نہیں۔

آخر میں صرف ایک سوال:
اگر ایک طالبِ علم
تعلیم کے نام پر اپنی جان ہار جائے
تو کیا واقعی ہم ترقی کی طرف بڑھ رہے ہیں—
یا خاموشی سے اپنی انسانیت کھو رہے ہیں؟



Editorial: A Student’s Death and a Silent System

Today’s headline is not about politics or power.
It is about the body of a nineteen-year-old student,
found lifeless inside a hostel room of a reputed educational institution.

The language of reports calls it suicide.
The language of files says low attendance and disciplinary issues.
And the system, having recorded its conclusions, quietly moves on.

But the real question remains unanswered:
Can an entire human life be reduced
to a percentage sheet and a few official remarks?

This is not merely the story of one student.
It is an indictment of an educational environment
where grades matter more than minds,
performance more than pressure,
and institutional reputation more than a student’s breath.

What kind of education is this
where failure is not treated as a phase to be guided through,
but as a stigma that isolates, shames, and breaks?

We must ask—
are educational institutions only examination factories,
or do they also carry the responsibility of nurturing human beings?
Is a mistake or a setback enough to rob a young person
of the right to hope, to support, to life itself?

We live in a society that tells its children:
Achieve, or become irrelevant.
And when someone collapses under this weight,
we offer a few words of condolence
and scroll on to the next headline.

Alif News believes this is not just a tragic death.
It is a systemic failure
a system that manufactures pressure
but forgets compassion,
that measures results
but ignores mental health.

The moment demands more than sympathy.
It demands accountability.
Counselling cannot remain a symbolic checkbox,
administrations must be answerable,
and every student must know
that failure is not a crime,
and asking for help is not weakness.

One final question lingers:
If a young life is lost
in the name of education,
are we truly progressing as a nation—
or silently losing our humanity?


Leave a Reply

کیا دنیا ایک نئی صلیبی جنگ کے دہانے پر ہے؟

عالمی سیاست، مذہبی بیانیہ اور مسلم دنیا کا مستقبل سیّد اکبر زاہد حالیہ برسوں میں عالمی سیاست کا منظرنامہ نہایت پیچیدہ اور تشویشناک ہوتا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں، طاقت کے نئے توازن کی کشمکش، اور عالمی طاقتوں کی اسٹریٹیجک ترجیحات نے دنیا کو ایک بار پھر اس سوال کے سامنے لا کھڑا…

Keep reading
  • قرآنی پیغام برائے پوری انسانیت
    يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰكُمۡ مِّنۡ ذَكَرٍ وَّاُنۡثٰى وَجَعَلۡنٰكُمۡ شُعُوۡبًا وَّقَبَآٮِٕلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ اِنَّ اَكۡرَمَكُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ اَ تۡقٰٮكُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ خَبِيۡرٌ‏  ( سورۃ الحجرات: ١٣) ترجمہ: اے لوگو ! ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے ایک مرد اور ایک عورت سے اور ہم نے تمہیں مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کردیا ہے تاکہ… Read more: قرآنی پیغام برائے پوری انسانیت

میری دو طرحی غزلیں

اکبر زاہد طرحی مصرع: عکس تیرا ہے دل کے درپن میں عکس تیرا ہے دل کے درپن میںنور پھیلا ہوا ہے  تن من میں تیری یادوں کا اک سمندر ہےموج در موج ہے مرے بن میں میں نے ہر سو تجھی کو دیکھا ہےتو ہی موجود  جابجا  فن میں دل کی ویرانیاں مہک اٹھیںذکر آیا…

Keep reading
جنوری 2026
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
 1234
567891011
12131415161718
19202122232425
262728293031  

Support Us

ICICI Bank
Vaniyambadi Branch
AKBAR ZAHID
Account No
619101000662
IFSC Code: ICI0006191

Discover more from Alif News الف نیوز

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading