گرین لینڈ پر امریکی دباؤ، یورپ میں تشویش
الف نیوز | عالمی امور
اطالوی وزیرِ اعظم Giorgia Meloni نے امریکہ کی جانب سے گرین لینڈ سے متعلق دھمکی آمیز تجارتی پابندیوں کو ایک “غلطی” قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات عالمی معیشت اور سفارتی توازن کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
سیئول کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا:
“میرا ماننا ہے کہ آج کے حالات میں نئی پابندیاں عائد کرنا ایک غلط فیصلہ ہوگا۔ میں نے یہ رائے براہِ راست صدر ٹرمپ تک پہنچا دی ہے۔”
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر Donald Trump نے گرین لینڈ پر کنٹرول کے حوالے سے یورپی ممالک کی مخالفت پر ردِعمل دیتے ہوئے ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فرانس، جرمنی، برطانیہ، نیدرلینڈز اور فن لینڈ سے امریکہ برآمد ہونے والی تمام اشیاء پر 25 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی ہے۔
یورپی حلقوں میں اس بیان کو اقتصادی دباؤ اور سیاسی بالادستی کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جب کہ اٹلی نے واضح کیا ہے کہ تصادم نہیں بلکہ مکالمہ ہی عالمی استحکام کی ضمانت ہے۔
جب طاقت، تجارت کی زبان بولنے لگے اور سیاست، منڈی میں بدل جائے—تو تاریخ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ پابندیاں دیواریں کھڑی کرتی ہیں، پل نہیں بناتیں۔
It is a Mistake: Giorgia Meloni
Italy’s Prime Minister Giorgia Meloni has described U.S. President Donald Trump’s threat to impose sweeping tariffs over objections to his Greenland plan as a “mistake”, warning against escalating economic tensions.
Speaking to reporters during her visit to Seoul on Sunday (January 18, 2026), Meloni said:
“I believe that imposing new sanctions today would be a mistake. I have conveyed my views directly to President Trump.”
Her remarks come after Trump threatened tariffs of up to 25% on goods exported to the United States from Denmark, Norway, Sweden, France, Germany, the United Kingdom, the Netherlands, and Finland, citing their opposition to his moves regarding Greenland.
European leaders have expressed growing concern that such trade threats could deepen transatlantic rifts and destabilize already fragile global markets. Italy, for its part, has emphasized diplomacy and dialogue over economic confrontation.





Leave a Reply