25°
Sunny, April 14, 2026 in Kathmandu
کمیونل سیاست یا تعلیمی معیار


خصوصی رپورٹ

سیاست، مذہب اور تعلیم کے باہمی تعلق پر سنگین سوالات


ایس ایم وی ڈی میڈیکل کالج، ایم بی بی ایس نشستیں اور انسانیت کا سوال

جموں و کشمیر میں شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسی لینس (SMVDIME) کے قیام اور اس میں ایم بی بی ایس کی 50 نشستوں کے معاملے نے ایک بار پھر سیاست، مذہب اور تعلیم کے باہمی تعلق پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

بعض حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ چونکہ یہ ادارہ “ہندو یاتریوں کے عطیات” سے قائم ہوا ہے، اس لیے یہاں کی ایم بی بی ایس نشستیں صرف ہندو طلبہ کے لیے مخصوص ہونی چاہئیں۔ اسی بنیاد پر ایک شدید احتجاجی مہم شروع ہوئی، جسے حکمراں جماعت بی جے پی کی حمایت بھی حاصل رہی، اور جو حالیہ ہفتوں میں واضح طور پر فرقہ وارانہ رنگ اختیار کر گئی۔

تاہم جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ Omar Abdullah کی قیادت والی حکومت نے اس مطالبے کو دو ٹوک انداز میں مسترد کر دیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ایس ایم وی ڈی یونیورسٹی ایک پارلیمانی قانون، یعنی SMVD University Act کے تحت کام کرتی ہے، جس میں مذہب کی بنیاد پر کسی بھی قسم کی تخصیص کی گنجائش نہیں۔ وزیر اعلیٰ نے چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی جماعت واقعی ایسا چاہتی ہے تو پہلے یونیورسٹی کو اقلیتی ادارہ قرار دلوا کر دکھائے۔

نیشنل کانفرنس کے سینئر قائدین اور دیگر سیاسی حلقوں نے الزام عائد کیا ہے کہ بی جے پی اس حساس معاملے کو محض سیاسی فائدے کے لیے استعمال کر رہی ہے، جس کا تعلیم یا طلبہ کے مستقبل سے کوئی حقیقی تعلق نہیں۔

ادھر رپورٹس کے مطابق ایس ایم وی ڈی یونیورسٹی نے 2025-26 کے تعلیمی سال کے لیے 50 ایم بی بی ایس نشستوں کے ساتھ ایک نئے میڈیکل کالج کے قیام کی اجازت National Medical Commission (NMC) کی جانب سے جاری 5 اور 19 دسمبر 2024 کے عوامی نوٹسز کے تحت طلب کی تھی۔ اس کی مشروط منظوری 8 ستمبر 2025 کو دی گئی۔

این ایم سی کے میڈیکل اسسمنٹ اینڈ ریٹنگ بورڈ (MARB) کے مطابق، اس اجازت نامے (LoP) پر متعدد سخت شرائط لاگو تھیں، جن میں بنیادی معیارات کی پابندی، اچانک معائنے، درست معلومات کی فراہمی، اور خامیوں کی بروقت اصلاح شامل تھی۔ بورڈ نے واضح کیا تھا کہ کسی بھی غلط بیانی، عدم تعمیل یا معیار پر پورا نہ اترنے کی صورت میں اجازت منسوخ کی جا سکتی ہے۔

بعد ازاں، ضروری معیارات پر پورا نہ اترنے کے باعث این ایم سی نے ان 50 ایم بی بی ایس نشستوں کی اجازت واپس لے لی۔

بی جے پی کے سینئر رہنما اور اودھم پور ایسٹ سے رکن اسمبلی آر ایس پتھانیا نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا:

“Quality Over Quantity۔ این ایم سی نے معیار پر سمجھوتہ نہ کرتے ہوئے درست قدم اٹھایا ہے۔ متاثرہ طلبہ کو دیگر یو ٹی میڈیکل کالجوں میں سپر نیومری سیٹس پر منتقل کیا جائے گا۔”

لیکن سوال اب بھی باقی ہے:
کیا یہ معاملہ واقعی تعلیمی معیار کا تھا، یا پھر ایک بار پھر تعلیم کو مذہب اور سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا گیا؟

کمیونلزم کی اس انتہا میں، انسانیت کہیں پیچھے رہ گئی۔


Communal Politics or Educational Standards?

SMVD Medical College and the Crisis of Conscience

The controversy surrounding the Shri Mata Vaishno Devi Institute of Medical Excellence (SMVDIME) in Jammu and Kashmir has once again exposed the fragile intersection of education, religion, and politics.

Sections of protesters argued that since the institute was funded through “donations of Hindu pilgrims,” its MBBS seats should be reserved exclusively for Hindu students. The agitation, openly backed by the BJP, gradually assumed a communal character over recent weeks.

The Jammu and Kashmir government, led by Chief Minister Omar Abdullah, firmly rejected the demand. Citing the SMVD University Act, the government clarified that admissions are governed by law, not religious identity. Abdullah went so far as to challenge the saffron party to first declare the university a minority institution if it wished to pursue such an arrangement.

Senior leaders of the National Conference and other political voices accused the BJP of exploiting the issue for political mileage, warning that such tactics risk undermining both social harmony and academic integrity.

According to official reports, SMVD University had applied to establish a new medical college with an intake of 50 MBBS seats for the academic year 2025–26, following public notices issued by the National Medical Commission (NMC) on December 5 and December 19, 2024. Conditional approval was granted on September 8, 2025.

The Letter of Permission (LoP) came with stringent conditions, including adherence to essential standards, allowance for surprise inspections, accurate disclosure of information, and rectification of deficiencies. The Medical Assessment and Rating Board (MARB) also reserved the right to withdraw approval in case of misrepresentation or non-compliance.

Subsequently, citing failure to meet essential standards, the NMC revoked permission for the 50 MBBS seats.

Welcoming the decision, senior BJP leader and Udhampur East MLA R.S. Pathania stated:

“Quality over Quantity. The NMC’s decision reaffirms its commitment to standards. All affected students will be accommodated through supernumerary seats in other UT medical colleges.”

Yet, beyond regulatory compliance, a deeper question lingers:
Was this truly about quality in medical education, or did communal politics once again overshadow the larger values of equity, justice, and humanity?

When education becomes a battleground of identity, humanity is often the first casualty.


Leave a Reply

کیا دنیا ایک نئی صلیبی جنگ کے دہانے پر ہے؟

عالمی سیاست، مذہبی بیانیہ اور مسلم دنیا کا مستقبل سیّد اکبر زاہد حالیہ برسوں میں عالمی سیاست کا منظرنامہ نہایت پیچیدہ اور تشویشناک ہوتا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں، طاقت کے نئے توازن کی کشمکش، اور عالمی طاقتوں کی اسٹریٹیجک ترجیحات نے دنیا کو ایک بار پھر اس سوال کے سامنے لا کھڑا…

Keep reading
  • قرآنی پیغام برائے پوری انسانیت
    يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰكُمۡ مِّنۡ ذَكَرٍ وَّاُنۡثٰى وَجَعَلۡنٰكُمۡ شُعُوۡبًا وَّقَبَآٮِٕلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ اِنَّ اَكۡرَمَكُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ اَ تۡقٰٮكُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ خَبِيۡرٌ‏  ( سورۃ الحجرات: ١٣) ترجمہ: اے لوگو ! ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے ایک مرد اور ایک عورت سے اور ہم نے تمہیں مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کردیا ہے تاکہ… Read more: قرآنی پیغام برائے پوری انسانیت

میری دو طرحی غزلیں

اکبر زاہد طرحی مصرع: عکس تیرا ہے دل کے درپن میں عکس تیرا ہے دل کے درپن میںنور پھیلا ہوا ہے  تن من میں تیری یادوں کا اک سمندر ہےموج در موج ہے مرے بن میں میں نے ہر سو تجھی کو دیکھا ہےتو ہی موجود  جابجا  فن میں دل کی ویرانیاں مہک اٹھیںذکر آیا…

Keep reading
جنوری 2026
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
 1234
567891011
12131415161718
19202122232425
262728293031  

Support Us

ICICI Bank
Vaniyambadi Branch
AKBAR ZAHID
Account No
619101000662
IFSC Code: ICI0006191

Discover more from Alif News الف نیوز

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading