اہم عدالتی پیش رفت
دہلی فسادات UAPA کیس: سپریم کورٹ کی مشروط ضمانت — اظہارِ رائے اور اجتماعات پر سخت پابندیاں
نئی دہلی —
سپریم کورٹ آف انڈیا نے دہلی فسادات کے مبینہ “بڑی سازش” کیس میں اہم مگر سخت شرائط کے ساتھ پانچ ملزمان کو ضمانت دے دی ہے، جبکہ شریکِ ملزمان عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت منظور نہیں کی گئی۔
عدالت نے گل فشاں فاطمہ، میران حیدر، شفاالرحمن، شاداب احمد اور محمد سلیم خان کو ضمانت دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ آزادی کسی صورت عوامی سرگرمیوں یا ڈیجیٹل اظہار کی اجازت نہیں ہوگی۔ جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجریا پر مشتمل بنچ نے حکم دیا کہ ملزمان نہ کسی جلسے، ریلی یا اجتماع میں شریک ہوں گے اور نہ ہی کسی بھی صورت—جسمانی یا ڈیجیٹل—میں پوسٹس، بینرز، ہینڈ بلز یا بیانات جاری کر سکیں گے۔
عدالت کے مطابق یہ شرائط تفتیش اور سماعت کے دوران امنِ عامہ اور عدالتی عمل کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہیں۔ ملزمان کو ہفتے میں دو بار پولیس کے سامنے حاضری، دہلی کی حدود میں رہائش، پاسپورٹ جمع کرانے، اور مقدمے سے متعلق کسی بھی قسم کے تبصرے یا تشہیر سے مکمل اجتناب کی ہدایت دی گئی ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ کسی شرط کی خلاف ورزی کی صورت میں ضمانت منسوخ کی جا سکتی ہے۔
English News
Delhi Riots UAPA Case: Supreme Court Grants Conditional Bail With Curbs on Speech & Gatherings
New Delhi —
The Supreme Court of India has granted bail to five accused in the Delhi riots “larger conspiracy” case, imposing stringent conditions that significantly restrict public participation and digital expression. Bail was denied to co-accused Umar Khalid and Sharjeel Imam.
A Bench comprising Justices Aravind Kumar and N.V. Anjaria directed that Gulfisha Fatima, Meeran Haider, Shifa-ur-Rehman, Shadab Ahmed, and Mohd. Saleem Khan shall not attend any public meetings, rallies, or gatherings—physical or virtual—nor circulate any material, including posts, banners, handbills, or statements, in any form during the pendency of the trial.
The Court also mandated strict compliance measures: weekly police attendance, confinement to the National Capital Territory of Delhi without prior court permission, surrender of passports, and a complete bar on publishing or disseminating any information related to the case. Any breach of these conditions may invite cancellation of bail.
الف نیوز تبصرہ:
یہ فیصلہ ضمانت اور بنیادی آزادیوں کے درمیان ایک نازک توازن کی نشاندہی کرتا ہے—جہاں عدالت نے رہائی تو دی، مگر اظہارِ رائے اور اجتماعی سیاست پر غیر معمولی قدغنیں عائد کر دیں، جو آئندہ عدالتی مباحث میں اہم حوالہ بن سکتی ہیں۔





Leave a Reply