


🇻🇪 الف نیوز | عالمی سیاست
وینزویلا کے صدر مادورو کی امریکہ کو مفاہمتی پیشکش، سنجیدہ مذاکرات کی تجویز
میڈرڈ / کاراکاس (رائٹرز):
وینزویلا کے صدر Nicolás Maduro نے امریکہ کے ساتھ کشیدہ تعلقات میں نرمی کا اشارہ دیتے ہوئے امریکی صدر Donald Trump کو مفاہمت کی پیشکش کی ہے۔ صدر مادورو نے منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف مشترکہ جدوجہد اور وینزویلا کے تیل کے شعبے میں امریکی کمپنیوں کو کھلی رسائی دینے پر سنجیدہ مذاکرات کی تجویز دی ہے۔
جمعہ کے روز دیے گئے ایک بیان میں مادورو نے کہا کہ وینزویلا، امریکہ کے لیے ایک “برادر ملک” ہے اور اس کی حکومت دوستانہ تعلقات کی خواہاں ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ نومبر میں صدر ٹرمپ سے ہونے والی آخری گفتگو کے دوران امریکی صدر نے انہیں “مسٹر پریزیڈنٹ” کہہ کر مخاطب کیا، جسے مادورو نے اپنی صدارت کی واضح سفارتی توثیق قرار دیا۔
صدر مادورو کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ سنجیدگی کے ساتھ بات چیت پر آمادہ ہو تو وینزویلا نہ صرف منشیات کے خلاف تعاون کے لیے تیار ہے بلکہ توانائی کے شعبے میں بھی شراکت داری کے نئے دروازے کھول سکتا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب عالمی توانائی منڈیوں میں عدم استحکام پایا جاتا ہے اور وینزویلا کے تیل کے ذخائر ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن رہے ہیں۔
🇺🇸 Venezuela’s Maduro Holds Out Olive Branch to U.S., Proposes Serious Talks
Madrid / Caracas (Reuters):
Venezuela’s President Nicolás Maduro has extended an olive branch to the United States, proposing serious talks with U.S. President Donald Trump on combating drug trafficking and offering U.S. companies ready access to Venezuelan oil.
Maduro described Venezuela as a “brother country” to the United States and said his government was friendly and open to dialogue. He recalled that when he last spoke with Trump in November, the U.S. president addressed him as “Mr. President,” which Maduro said amounted to an acknowledgment of his authority.
The Venezuelan leader said his country was prepared to cooperate on anti-narcotics efforts and open its vast energy sector to American companies if Washington showed seriousness in engaging diplomatically. Analysts say the remarks signal a possible shift in Caracas–Washington relations amid changing global energy dynamics.





Leave a Reply