/ اکتوبر 31, 2026
Trending
الف نیوز شمارہ: 361/تاریخ: 18 جمادی الاول 1448ھ/ 30 اکتوبر 2026ء/ جمعہ
سیّد اکبر زاہد
نئی دہلی کے قلب میں واقع ایک تاریخی مسجد کا معاملہ محض زمین کے انتظامی تصرف کا نہیں، بلکہ مذہبی آزادی، تاریخی ورثے کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کا امتحان بھی ہے۔
نئی دہلی میں وزیر اعظم کی رہائش گاہ، ۷ لوک کلیان مارگ، کے قریب واقع ریس کورس مسجد کے انہدام کا اندیشہ فی الحال چار ہفتوں کے لیے ٹل گیا ہے۔ دی انڈین ایکسپریس کی ۲۹ اکتوبر ۲۰۲۶ء کی رپورٹ کے مطابق، دہلی ہائی کورٹ میں مرکزی حکومت کے محکمہ اراضی و ترقی (ایل اینڈ ڈی او) نے یقین دہانی کرائی ہے کہ دہلی وقف بورڈ کی عرضداشت پر فیصلہ کیے جانے تک مسجد کے خلاف کوئی جبری کارروائی نہیں کی جائے گی۔ عدالت نے اس بیان کو اپنے حکم نامے میں درج کرلیا ہے۔
بظاہر یہ پیش رفت اطمینان کا باعث ہے، لیکن اسے مسئلے کا حتمی حل قرار نہیں دیا جاسکتا۔ چار ہفتوں کی مہلت نے فوری انہدام کے خدشے کو ضرور کم کیا ہے، تاہم مسجد کے مستقبل، نمازیوں کی رسائی اور اس کے بنیادی شہری و مذہبی حقوق سے متعلق سوالات اب بھی جواب طلب ہیں۔
ریس کورس مسجد دہلی ریس کلب کے احاطے میں واقع ہے، جو تقریباً ۵۳ ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ مسجد وقف کے طور پر نوٹیفائی شدہ اور درجہ دوم کی تاریخی عمارت ہے۔ آس پاس کی زمینوں کو مرکزی حکومت کی وزارتِ ہاؤسنگ و شہری امور کے تحت دوبارہ اپنے قبضے میں لینے کا عمل جاری ہے۔ اس وسیع کارروائی کے دوران قریباً ۷۰۰ خاندانوں کی جھگی بستیاں بھی منہدم کی جاچکی ہیں۔
زمین کے انتظام، سرکاری املاک کی بازیابی اور شہری منصوبہ بندی کے معاملات میں حکومت کو قانونی اختیارات حاصل ہیں، لیکن ان اختیارات کا استعمال شفافیت، قانونی تقاضوں اور متاثرہ فریقوں کے حقوق کو ملحوظ رکھ کر ہونا چاہیے۔ کسی علاقے کی زمین واپس لینے کا عمل بذاتِ خود اس بات کا جواز نہیں بن سکتا کہ وہاں موجود ہر مذہبی یا تاریخی عمارت کے تحفظ سے متعلق سوالات کو نظرانداز کردیا جائے۔
اگر کسی عمارت کی قانونی حیثیت، تاریخی اہمیت یا مذہبی شناخت سے متعلق تنازع موجود ہو تو اس کا فیصلہ متعلقہ قوانین، مستند دستاویزات اور منصفانہ سماعت کی بنیاد پر ہونا چاہیے، نہ کہ محض انتظامی کارروائی کی رفتار سے۔
اس مقدمے میں ایک اہم پہلو مسجد تک نمازیوں کی رسائی کا ہے۔ مسجد کے ایک نمازی سید احمد سعود نے دہلی ہائی کورٹ سے درخواست کی تھی کہ مسجد میں غیر محدود رسائی بحال کی جائے اور اسے انہدام سمیت کسی جبری کارروائی سے تحفظ فراہم کیا جائے۔
مرکزی حکومت نے جاری انہدامی کارروائی کے دوران سلامتی کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے مسجد تک رسائی کی اجازت دینے کی مخالفت کی۔ حکومت کے وکیل کے مطابق، تعمیراتی و انہدامی سرگرمیوں کے دوران لوگوں کا وہاں آنا جانا خطرناک ہوسکتا ہے۔ عدالت نے بھی اس مرحلے پر رسائی بحال کرنے میں مداخلت سے گریز کیا اور ممکنہ حادثے کی صورت میں ذمہ داری کا سوال اٹھایا۔
حفاظتی خدشات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اگر کسی مقام پر واقعی جان و مال کو خطرہ ہو تو احتیاط ضروری ہے۔ لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ ایسی پابندیاں واضح وجوہات، متعین مدت اور قابلِ جائزہ حفاظتی انتظامات کے ساتھ عائد ہوں۔ جہاں ممکن ہو، متبادل راستے، محفوظ اوقات یا مناسب حفاظتی انتظامات کے ذریعے عبادت کے حق کو برقرار رکھنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔
سلامتی اور مذہبی آزادی کو ایک دوسرے کی ضد بنا دینا دانش مندی نہیں۔ قانون کی ذمہ داری یہ ہے کہ دونوں کے درمیان منصفانہ توازن قائم کیا جائے۔
دہلی وقف بورڈ نے ۱۹ اکتوبر کو محکمہ اراضی و ترقی کو درخواست دی تھی کہ مسجد کی بجلی اور پانی کی فراہمی، جو ۷ اکتوبر کو منقطع کردی گئی تھی، بحال کی جائے۔ اس درخواست میں مسجد کو وقف کے طور پر نوٹیفائی شدہ اور درجہ دوم کی تاریخی عمارت قرار دیتے ہوئے معاملے کی فوری جانچ کی اپیل کی گئی تھی۔
یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ وقف بورڈ کی درخواست میں انہدام کے خدشے کا ذکر تو کیا گیا، لیکن مسجد کو انہدام سے واضح تحفظ فراہم کرنے کی باقاعدہ استدعا شامل نہیں تھی۔ دوسری جانب سید احمد سعود نے ۲۲ اکتوبر کو اپنی درخواست میں رسائی کی بحالی کے ساتھ انہدام، سیل کرنے، بے دخلی اور دیگر جبری اقدامات سے تحفظ بھی طلب کیا۔
مرکزی حکومت نے عدالت کو بتایا کہ محکمہ اراضی و ترقی وقف بورڈ کی درخواست پر فیصلہ کرے گا، نہ کہ ہر نمازی کی انفرادی درخواست پر۔ اس کا استدلال تھا کہ متعدد انفرادی درخواستوں سے ایک وسیع سلسلہ شروع ہوسکتا ہے۔ تاہم انتظامی سہولت کے تقاضے اپنی جگہ، اصل سوال یہ ہے کہ کیا متعلقہ ادارہ تمام بنیادی مسائل کو ایک جامع اور منصفانہ فیصلے کے ذریعے حل کرنے کے لیے تیار ہے؟
بجلی اور پانی جیسی بنیادی سہولتوں کی بندش کے قانونی جواز، ضرورت اور اثرات کا جائزہ بھی لیا جانا چاہیے۔ ان معاملات کو صرف انتظامی کارروائی کا ضمنی پہلو سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس انیش دیال نے مرکزی حکومت کی یقین دہانی ریکارڈ کرنے کے ساتھ ہدایت دی ہے کہ آئندہ سماعت پر صورتِ حال کی رپورٹ اور تصاویر پیش کی جائیں۔ مقدمے کی اگلی سماعت ۱۶ دسمبر ۲۰۲۶ء کو مقرر ہے۔
یہ ہدایت اہم ہے، کیونکہ اس سے عدالت کو موقع ملے گا کہ وہ موقع کی حقیقی صورتِ حال، جاری سرگرمیوں اور مسجد کی موجودہ حالت کا جائزہ لے سکے۔ تاہم چار ہفتوں کی مہلت کو غیر معینہ تحفظ نہیں سمجھنا چاہیے۔ اصل اہمیت اس فیصلے کی ہوگی جو وقف بورڈ کی درخواست پر کیا جائے گا اور جس میں مسجد کی قانونی حیثیت، تاریخی ورثے، عبادت کے حق اور حکومتی اختیارات کے تمام متعلقہ پہلوؤں کو واضح طور پر دیکھا جائے گا۔
ایک جمہوری معاشرے میں شہری ترقی اور سرکاری زمینوں کی بازیابی کے منصوبے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ترقی کا معیار صرف سڑکوں کی کشادگی، زمین کے حصول یا نئی تعمیرات سے متعین نہیں ہوتا۔ اس کا حقیقی معیار یہ بھی ہے کہ اس عمل میں کمزور طبقات، تاریخی عمارتوں، مذہبی مقامات اور شہریوں کے قانونی حقوق کے ساتھ کیسا برتاؤ کیا جاتا ہے۔
ریس کورس مسجد کا معاملہ اسی بنیادی اصول کی یاد دہانی کراتا ہے کہ ریاستی طاقت کا وقار محض کارروائی کرنے میں نہیں، بلکہ قانون کے مطابق کارروائی کرنے اور ہر فریق کے حقوق کا منصفانہ تحفظ کرنے میں ہے۔ کسی مسجد یا مذہبی مقام کے تحفظ کا مطالبہ قانون سے بالاتر استثنا نہیں، بلکہ قانون کے منصفانہ اطلاق کا مطالبہ ہے۔
الف نیوز کا مؤقف ہے کہ ریس کورس مسجد کے معاملے میں چار ہفتوں کی مہلت کو ایک عارضی راحت کے بجائے مستقل اور منصفانہ حل کی طرف پہلا قدم بنایا جانا چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ وقف بورڈ کی عرضداشت پر شفاف، مدلل اور قانونی فیصلہ کرے، مسجد کی تاریخی و قانونی حیثیت کا غیر جانب دارانہ جائزہ لے اور حتمی فیصلے تک کسی ایسے اقدام سے گریز کرے جس سے ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔
عدالت کی نگرانی میں یہ بھی یقینی بنایا جانا چاہیے کہ سلامتی کے حقیقی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے عبادت گزاروں کے حقوق اور بنیادی سہولتوں کے مسئلے کا مناسب حل نکالا جائے۔ تاریخی ورثہ ایک بار مٹ جائے تو اسے دوبارہ تعمیر کرنا ہمیشہ اس کی اصل حیثیت اور تاریخی معنویت کو بحال نہیں کرسکتا۔
آج ریس کورس مسجد کے سامنے سوال صرف یہ نہیں کہ اس کی عمارت باقی رہے گی یا نہیں؛ سوال یہ بھی ہے کہ کیا ایک جمہوری ریاست اپنی انتظامی قوت کے استعمال میں تاریخ، انصاف، مذہبی آزادی اور انسانی وقار کے تقاضوں کو یکساں اہمیت دے گی؟ اس سوال کا جواب محض چار ہفتوں کی مہلت نہیں، بلکہ ایک واضح، منصفانہ اور قابلِ اعتماد قانونی فیصلے سے سامنے آنا چاہیے۔
It is a long established fact that a reader will be distracted by the readable content of a page when looking at its layout. The point of using Lorem Ipsum is that it has a more-or-less normal distribution
Copyright BlazeThemes. 2023