انتخابی قانون، الیکشن کمیشن اور جمہوریت کا امتحان – Alif News الف نیوز : مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

انتخابی قانون، الیکشن کمیشن اور جمہوریت کا امتحان

الف نیوز شمارہ : 322/تاریخ: 23 ربیع الاول ,1448ھ/6 ستمبر ,2026/,اتوار

اداریہ

سید اکبر زاہد

انتخابات کے بعد سامنے آنے والے فیصلے اکثر صرف قانونی کارروائی نہیں ہوتے؛ وہ انتخابی نظام کی ساکھ، اداروں کی غیر جانب داری اور سیاسی جماعتوں کے طرزِ عمل کو بھی جانچتے ہیں۔ چنئی سے آنے والی خبر نے انہی سوالات کو ایک بار پھر نمایاں کردیا ہے۔

الیکشن کمیشن نے سابق کانگریسی رکن اسمبلی آصان مولانا کو 2021 کے اسمبلی انتخابات میں انتخابی اخراجات کا درست حساب پیش نہ کرنے کے الزام میں تین برس تک انتخابات لڑنے سے روک دیا ہے۔ کمیشن کے مطابق امیدوار نے ابتدا میں 17 لاکھ روپے کے اخراجات ظاہر کیے، جبکہ تحقیقات کے بعد مزید 32 لاکھ روپے کے غیر ظاہر شدہ اخراجات سامنے آئے، جس سے مجموعی رقم 49 لاکھ روپے تک پہنچ گئی، جب کہ اس وقت قانونی حد 30 لاکھ روپے تھی۔

اگر یہ الزامات اور کمیشن کی تحقیقات قانون کے مطابق ثابت ہیں تو انتخابی اخراجات کے قوانین کی خلاف ورزی کو معمولی معاملہ نہیں سمجھا جاسکتا۔ انتخابات میں پیسے کا بڑھتا ہوا استعمال جمہوریت کی جڑوں کو اندر سے کھوکھلا کرتا ہے۔ دولت کے زور پر انتخابی مقابلہ جتنا غیر مساوی ہوگا، عام شہری کی سیاسی آواز اتنی ہی کمزور ہوتی جائے گی۔

لیکن سوال صرف یہ نہیں کہ قانون کی خلاف ورزی ہوئی یا نہیں۔

سوال یہ بھی ہے کہ قانون کب، کیسے اور کس کے خلاف نافذ کیا جاتا ہے؟

آصان مولانا نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو جانبدارانہ قرار دیتے ہوئے عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انتخابی اخراجات سے متعلق معاملے کو انتخابات کے ایک سال کے اندر نمٹایا جانا چاہیے تھا، جبکہ موجودہ کارروائی 2021 کے انتخابات کے تقریباً پانچ برس بعد سامنے آئی۔ انہوں نے یہ اعتراض بھی کیا ہے کہ کانگریس کی جانب سے راہول گاندھی کی انتخابی مہم کے سلسلے میں شائع کیے گئے ایک اشتہار کا پورا خرچ ان کے انتخابی اخراجات میں شامل کردیا گیا، حالاں کہ اس موقع پر دوسرے امیدوار اور اس وقت کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن بھی اسٹیج پر موجود تھے۔

یہ اعتراضات درست ہیں یا نہیں، اس کا فیصلہ عدالت یا متعلقہ قانونی فورم کرے گا۔ مگر ایک جمہوری معاشرے میں ایسے سوالات کا اٹھنا بھی کم اہم نہیں۔

الیکشن کمیشن کی طاقت کا اصل جواز اس کی طاقت نہیں، اس کی غیر جانب داری ہے۔

انتخابی ادارہ اگر کسی امیدوار کو سزا دیتا ہے تو عوام کو یہ اعتماد بھی ملنا چاہیے کہ یہی معیار تمام امیدواروں اور تمام سیاسی جماعتوں پر یکساں طور پر لاگو ہوگا۔ اگر ایک امیدوار کے انتخابی اخراجات کی ایک ایک رسید کا حساب مانگا جائے، تو بڑی سیاسی جماعتوں کے انتخابی اخراجات، تشہیری مہمات، میڈیا اشتہارات اور بالواسطہ سیاسی اخراجات بھی اسی شفافیت کے پیمانے سے پرکھے جانے چاہئیں۔

ورنہ قانون انصاف کی ڈھال کے بجائے سیاسی شکایات کا سایہ بن سکتا ہے۔

یہاں ایک اور بنیادی پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ پانچ برس بعد کسی انتخابی خلاف ورزی پر کارروائی محض ایک قانونی کارروائی نہیں رہتی؛ اس کے سیاسی اثرات بھی ہوتے ہیں۔ انتخابات قریب ہوں تو کسی امیدوار کو نااہل قرار دینے کا فیصلہ اس کی سیاسی زندگی، اس کے حلقے اور اس کے ووٹروں پر براہ راست اثر ڈال سکتا ہے۔ اس لیے ایسے فیصلوں میں رفتار سے زیادہ شفافیت اور سزا سے زیادہ قانونی جواز ضروری ہے۔

جمہوریت میں الیکشن کمیشن کو کمزور نہیں، بلکہ مضبوط ہونا چاہیے۔ مگر مضبوط الیکشن کمیشن وہ نہیں جو صرف اپنے اختیارات استعمال کرے؛ مضبوط الیکشن کمیشن وہ ہے جس کے فیصلوں پر سیاسی اختلاف رکھنے والا شخص بھی یہ کہنے پر مجبور ہو کہ فیصلہ قانون کا تھا، کسی سیاسی مصلحت کا نہیں۔

آصان مولانا کا معاملہ اسی اعتبار سے ایک بڑے سوال کی علامت بن گیا ہے۔ اگر خلاف ورزی ہوئی ہے تو قانون اپنا راستہ اختیار کرے۔ اگر کمیشن کے فیصلے میں کوئی قانونی یا طریقۂ کار کی خامی ہے تو عدالت اسے درست کرے۔ لیکن دونوں صورتوں میں عوام کا اعتماد محفوظ رہنا چاہیے۔

کیونکہ انتخابات صرف امیدواروں کا امتحان نہیں ہوتے؛ وہ انتخابی اداروں کا بھی امتحان ہوتے ہیں۔

اور جب جمہوریت کا نگہبان ہی کٹہرے میں سوالوں کا سامنا کرنے لگے تو سب سے بڑا نقصان کسی ایک امیدوار کا نہیں، عوام کے اعتماد کا ہوتا ہے۔

Akbar Zahid

Publisher and Editor in Chief for Alif News Bilingual Online Daily News Paper

SUBSCRIBE US

It is a long established fact that a reader will be distracted by the readable content of a page when looking at its layout. The point of using Lorem Ipsum is that it has a more-or-less normal distribution

Copyright BlazeThemes. 2023