ساورکر: مجاہدِ آزادی، انقلابی یا تاریخ کا متنازع باب؟ – Alif News الف نیوز : مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

ساورکر: مجاہدِ آزادی، انقلابی یا تاریخ کا متنازع باب؟

الف نیوز شمارہ نمبر: 304|تاریخ: 5 ربیع الاول 1448ھ|19 اگست 2026ء|چہارشنبہ

اداریہ

سیّد اکبر زاہد

سپریم کورٹ نے ساورکر سے متعلق راہل گاندھی کے مبینہ ہتکِ عزت کے مقدمے کو ختم کرتے ہوئے ایک بنیادی قانونی نکتے پر فیصلہ دیا ہے کہ اتر پردیش حکومت نے مقدمہ چلانے کے لیے مطلوبہ منظوری ہی نہیں دی تھی۔ عدالت نے اس سے قبل راہل گاندھی کے بیان پر سخت ناراضی ظاہر کرتے ہوئے انہیں آزادی کے مجاہدین کے بارے میں محتاط زبان استعمال کرنے کی تلقین بھی کی تھی۔ لیکن جمعہ کے فیصلے میں عدالت نے ساورکر کی تاریخی حیثیت پر کوئی فیصلہ نہیں دیا۔

یہ فرق بہت اہم ہے، کیونکہ ہندوستان کی موجودہ سیاسی بحث میں ساورکر کا نام اکثر تاریخ سے زیادہ سیاسی شناخت کی علامت بن چکا ہے۔ سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ساورکر کو کسی سیاسی جماعت کا حامی مانا جائے یا مخالف؛ اصل سوال یہ ہے کہ تاریخی شواہد ساورکر کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟

اس سوال کا پہلا جواب بالکل واضح ہے: ساورکر برطانوی اقتدار کے خلاف انقلابی سرگرمیوں میں شریک تھے اور ہندوستان کی آزادی کے لیے ابتدائی دور میں ایک اہم انقلابی کردار ادا کرتے تھے۔

حکومتِ ہند کے ’’آزادی کا امرت مہوتسو‘‘ کے سرکاری ریکارڈ میں ساورکر کو آزادی کی جدوجہد سے وابستہ شخصیت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق انہوں نے 1904 میں ’’ابھینو بھارت‘‘ قائم کیا، لندن میں ’’فری انڈیا سوسائٹی‘‘ سے وابستہ رہے، 1857 کی بغاوت پر The First War of Independence تحریر کی اور برطانوی حکومت نے اس کتاب کو اس کی اشاعت سے پہلے ہی ضبط کر لیا۔ 1910 میں گرفتاری، مارسیلز کے قریب جہاز سے فرار کی کوشش اور پھر دو عمر قیدوں کی سزا کے بعد انہیں انڈمان کی سیلولر جیل بھیجا گیا جہاں انہوں نے طویل عرصہ قید و مشقت میں گزارا۔

یہ سب حقائق اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ ساورکر کی ابتدائی زندگی کو ہندوستان کی آزادی کی انقلابی جدوجہد سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ انہیں محض ایک ایسے شخص کے طور پر پیش کرنا جس کا آزادی کی تحریک سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا، تاریخی شواہد سے مطابقت نہیں رکھتا۔

لیکن تاریخ کا دوسرا رخ بھی اتنا ہی اہم ہے۔

سیلولر جیل میں قید کے دوران ساورکر نے برطانوی حکومت کو رحم اور رہائی کی متعدد درخواستیں پیش کیں۔ 14 نومبر 1913 کی درخواست، جو نیشنل آرکائیوز آف انڈیا کے ریکارڈ سے منسوب کی گئی ہے، آج تاریخی بحث کا ایک بنیادی دستاویز ہے۔ اس میں ساورکر نے اپنی رہائی کی درخواست کرتے ہوئے اپنے سابق انقلابی راستے سے دستبرداری اور آئینی طریقے سے کام کرنے کی آمادگی ظاہر کی۔ بعد کی درخواستوں میں بھی رہائی اور حکومت کے ساتھ تعاون کی پیش کش کے شواہد ملتے ہیں۔ ان دستاویزات کی موجودگی کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

یہاں بھی انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ کسی ایک جملے کو پوری تاریخ نہ بنا دیا جائے۔ قید خانوں میں سیاسی قیدیوں کی طرف سے رحم کی درخواستیں دینا نوآبادیاتی دور میں غیر معمولی امر نہیں تھا۔ اس لیے صرف درخواست لکھ دینے سے کسی شخص کی پوری انقلابی زندگی کو جھوٹ قرار دینا بھی درست تاریخی طریقہ نہیں۔ لیکن اسی طرح یہ کہنا بھی درست نہیں کہ ایسی درخواستیں کبھی لکھی ہی نہیں گئیں یا ان میں برطانوی حکومت کے ساتھ وفاداری اور تعاون کی پیش کش موجود نہیں تھی۔

چنانچہ ساورکر کی تاریخ کو دو انتہاؤں میں تقسیم کرنا غلط ہوگا۔

ایک طرف یہ دعویٰ کہ وہ کبھی آزادی کی جدوجہد کا حصہ ہی نہیں تھے، تاریخی طور پر کمزور ہے۔

دوسری طرف یہ دعویٰ کہ ان کی پوری سیاسی زندگی آزادی کی جدوجہد کی ایک ہی مسلسل اور غیر متزلزل لکیر تھی، وہ بھی تاریخی پیچیدگی کو نظرانداز کرتا ہے۔

ساورکر کی زندگی میں ایک واضح تبدیلی بھی نظر آتی ہے۔ ابتدائی انقلابی دور کے بعد ان کی سیاسی فکر ہندوتوا اور ہندو قوم پرستی کی طرف زیادہ نمایاں طور پر منتقل ہوئی۔ 1924 کے بعد رت ناگیری میں پابندیوں کے تحت رہتے ہوئے ان کی سیاسی و فکری سرگرمیوں کا مرکز بھی بدل گیا۔ یہی وہ مرحلہ ہے جس نے بعد کے ہندوستان میں ساورکر کو ایک انتہائی متنازع سیاسی و فکری شخصیت بنا دیا۔

لہٰذا ’’کیا ساورکر مجاہدِ آزادی تھے؟‘‘ کا زیادہ درست تاریخی جواب یہ ہے:

ہاں، ان کی ابتدائی زندگی اور انقلابی سرگرمیاں ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کا حصہ تھیں، اور ہندوستانی حکومت کے سرکاری تاریخی مواد میں بھی انہیں آزادی کی جدوجہد سے وابستہ آزادی پسند شخصیت کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ لیکن ان کی بعد کی سیاسی فکر، برطانوی حکومت کو دی گئی رحم کی درخواستیں اور ہندوتوا کی سیاسی تعبیر ان کی شخصیت کا دوسرا باب ہیں، جنہیں چھپانا بھی تاریخ نہیں اور پہلے باب کی بنیاد پر دوسرے باب سے صرفِ نظر کرنا بھی تاریخ نہیں۔

تاریخ عقیدت کا نام نہیں؛ تاریخ شواہد کا نام ہے۔

ساورکر کو ’’ویر‘‘ کہنا سیاسی انتخاب ہوسکتا ہے، انہیں ’’غدار‘‘ کہنا بھی سیاسی الزام ہوسکتا ہے؛ لیکن مورخ کا کام دونوں نعروں سے اوپر اٹھ کر دستاویزات دیکھنا ہے۔ آزادی کی تحریک میں ان کے انقلابی کردار کو تسلیم کرتے ہوئے ان کی بعد کی سیاست اور برطانوی حکومت سے تعلقات کے متنازع پہلوؤں کو بھی سامنے رکھنا ہی دیانت دار تاریخی رویہ ہے۔

اور یہی اصول راہل گاندھی کے بیان پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔ اگر کسی تاریخی شخصیت کے بارے میں کوئی دعویٰ کیا جائے تو اسے عدالت کے ذریعے سیاسی طور پر درست یا غلط قرار دینے کے بجائے اصل دستاویزات، سرکاری ریکارڈ، خطوط، مقدمات اور معتبر مورخین کی تحقیقات کی روشنی میں پرکھا جانا چاہیے۔

ہندوستان کو آج شاید ساورکر کے بارے میں کسی نئے بت یا نئے دشمن کی ضرورت نہیں۔ اسے اپنی تاریخ کی پوری، پیچیدہ اور غیر مصلحتی تصویر کی ضرورت ہے۔

اس معاملے میں ایک اہم تاریخی امتیاز ضروری ہے: عدالت نے ساورکر کے بارے میں راہل گاندھی کے تاریخی دعوے کو درست یا غلط قرار نہیں دیا؛ مقدمہ اس قانونی بنیاد پر ختم کیا کہ اتر پردیش حکومت نے مقدمہ چلانے کے لیے مطلوبہ منظوری نہیں دی تھی۔ لہٰذا سپریم کورٹ کا فیصلہ ساورکر کی حب الوطنی یا برطانوی حکومت سے ان کے تعلقات پر کوئی تاریخی فیصلہ نہیں ہے۔

مختصر تاریخی نتیجہ مستند حوالوں کی بنیاد پر

  • حکومتِ ہند کا سرکاری تاریخی ریکارڈ: ساورکر کو آزادی کی جدوجہد سے وابستہ قرار دیتا ہے اور ان کی انقلابی سرگرمیوں، ابھینو بھارت، فری انڈیا سوسائٹی، 1857 پر کتاب اور انڈمان کی قید کا ذکر کرتا ہے۔
  • حکومتِ ہند کا سیلولر جیل کا سرکاری تاریخی مواد: ساورکر کو انقلابیوں میں شمار کرتا ہے اور ان کی 50 سالہ سزا، انڈمان منتقلی اور قید کی تفصیلات بیان کرتا ہے۔
  • نیشنل آرکائیوز آف انڈیا سے منسوب 1913 کی درخواست: اس کے اصل متن کی تاریخی نسبت موجود ہے؛ جدید تحقیقی کام بھی اسے محفوظ تاریخی دستاویز کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
  • معتبر تحقیقی ماخذ: Akshaya K. Rath کی Across the Black Water: The Andaman Archives میں ساورکر کی 1913 کی رحم کی درخواست کو باقاعدہ آرکائیوی مواد کے طور پر درج کیا گیا ہے، صفحہ 216 کے حوالے کے ساتھ۔

اہم تصحیح: اس خبر کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ سپریم کورٹ نے ساورکر کو ’’مجاہدِ آزادی‘‘ تسلیم کیا یا راہل گاندھی کے دعوے کو درست قرار دیا۔ عدالت کا فیصلہ صرف مقدمہ چلانے کے لیے قانونی منظوری نہ ہونے کے سوال پر تھا۔ ساورکر کی آزادی پسند حیثیت کے لیے زیادہ مضبوط حوالہ خود حکومتِ ہند کا تاریخی مواد ہے۔


EDITORIAL

Syed Akbar Zahid

Savarkar: Freedom Fighter, Revolutionary — and a Contested Chapter of History

The Supreme Court’s decision to quash the defamation proceedings against Rahul Gandhi over his remarks on V D Savarkar was based on a legal ground: the Uttar Pradesh government had not granted the sanction required for prosecution. The Court therefore did not decide whether Rahul Gandhi’s historical description of Savarkar was correct or incorrect.

That distinction is crucial.

In today’s political discourse, Savarkar is often treated less as a historical figure and more as a symbol of competing political identities. But history demands a different question: What do the documentary records actually establish?

The first answer is clear. Savarkar was involved in revolutionary anti-colonial activity in the early phase of his political life and was an important figure in the revolutionary stream of India’s freedom movement.

The Government of India’s own Azadi Ka Amrit Mahotsav historical material records that Savarkar founded Abhinav Bharat in 1904, established the Free India Society in London, wrote The First War of Independence on the 1857 uprising, and was subsequently arrested and sentenced to two life terms before being transported to the Cellular Jail in the Andamans.

The official government record therefore leaves little room for the sweeping claim that Savarkar had no connection whatsoever with India’s struggle against British rule.

But history does not end there.

While imprisoned in the Cellular Jail, Savarkar submitted petitions seeking clemency and release. The November 14, 1913 petition is preserved in historical records attributed to the National Archives of India and has been reproduced and studied by researchers. It contains language indicating his willingness to abandon his earlier revolutionary course and pursue constitutional politics if released. Later petitions likewise sought release and offered cooperation with the government.

Those documents cannot responsibly be erased from the historical record.

At the same time, the existence of clemency petitions does not automatically erase everything Savarkar had done before them. Political prisoners under colonial rule sometimes petitioned authorities for release, and petitions themselves must be read in their historical circumstances. The proper task of the historian is therefore neither to romanticise the petitions nor to pretend they never existed.

The historical record points instead to a complicated trajectory.

Savarkar’s early career unquestionably belongs to the revolutionary anti-colonial tradition. His imprisonment, revolutionary organisation and writings are part of that history. But his later political evolution, his formulation of Hindutva, his activities after his release under restrictions, and his relationship with the colonial state form another chapter — one that cannot simply be absorbed into the heroic narrative of his youth.

Thus, was Savarkar a freedom fighter?

Yes — in the historically meaningful sense that his early revolutionary activities were part of India’s anti-British freedom struggle, and official Government of India historical material itself recognises him as a freedom fighter associated with that struggle.

But that conclusion does not require us to accept every later political position of Savarkar, nor does it require us to ignore the clemency petitions.

Conversely, the petitions do not justify rewriting his early revolutionary history out of existence.

The intellectually honest position is therefore neither hagiography nor denunciation.

Savarkar was a revolutionary anti-colonial activist who later became one of the most influential and controversial ideologues of Hindu nationalism. His life contains both resistance to colonial rule and documentary evidence of attempts to secure release through petitions promising a different political course.

History should be allowed to contain both facts.

The Supreme Court has decided a question of law; it has not settled this historical question. That responsibility belongs to historians, archivists and readers who are willing to examine the documents without political fear.

India does not need another political myth about Savarkar — either a saintly one or a wholly demonised one.

It needs the whole historical record.

Akbar Zahid

Publisher and Editor in Chief for Alif News Bilingual Online Daily News Paper

SUBSCRIBE US

It is a long established fact that a reader will be distracted by the readable content of a page when looking at its layout. The point of using Lorem Ipsum is that it has a more-or-less normal distribution

Copyright BlazeThemes. 2023

Discover more from Alif News الف نیوز : مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading