آزادی کے اسّی برس: ہم کہاں کھڑے ہیں؟ – Alif News الف نیوز : مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

آزادی کے اسّی برس: ہم کہاں کھڑے ہیں؟

الف نیوز شمارہ نمبر: 300|تاریخ: 2 ربیع الاول 1448ھ|15 اگست 2026ء| ہفتہ

اداریہ

سیّد اکبر زاہد

پندرہ اگست 1947ء کو جب ہندوستان نے برطانوی استعمار کی طویل غلامی سے نجات حاصل کی تو آزادی کا سورج ایک ایسے برصغیر پر طلوع ہوا تھا جو سیاسی انتشار، معاشی تباہی اور تقسیم کے زخموں سے لہولہان تھا۔ ایک طرف آزادی کی خوشی تھی، دوسری طرف بٹوارے کا کرب، اجڑے ہوئے گھر، خون میں ڈوبی ہوئی بستیاں اور ایک ایسی تہذیب کا دکھ تھا جس کی گنگا جمنی روح پر تاریخ نے گہرے زخم ثبت کر دیے تھے۔

یہ آزادی کسی ایک طبقے، مذہب یا جماعت کی عطا نہیں تھی۔ اس کے لیے مختلف ادوار میں مختلف طبقات نے جدوجہد کی۔ علمائے ہند اور مسلم اہلِ فکر نے بھی برطانوی اقتدار کے خلاف مزاحمت میں نمایاں کردار ادا کیا، پھر وقت کے ساتھ ہندو، مسلمان، سکھ اور دیگر ہندوستانی آزادی کی مشترکہ جدوجہد میں شامل ہوتے گئے۔ یہی اس تحریک کی اصل روح تھی: ہندوستان کسی ایک مذہب کی ملکیت نہیں، بلکہ اپنے تمام باشندوں کا مشترکہ وطن ہے۔

آزادی کے بعد ہندوستان نے اپنے لیے جمہوریت، مساوات، سیکولرازم اور بنیادی حقوق کا راستہ منتخب کیا۔ آئین نے شہری کو اس کی مذہبی شناخت سے قطع نظر برابر کا انسان اور برابر کا شہری تسلیم کیا۔ گزشتہ آٹھ دہائیوں میں ہندوستان نے غربت، پسماندگی اور نوآبادیاتی استحصال کی وراثت سے نکل کر سائنس، ٹیکنالوجی، صنعت، تعلیم اور عالمی سفارت کاری کے میدان میں قابلِ ذکر مقام حاصل کیا۔ یہ کامیابیاں معمولی نہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف معاشی اور تکنیکی ترقی ہی آزادی کی تکمیل ہے؟

آزادی کا اصل مفہوم صرف غیر ملکی اقتدار سے نجات نہیں؛ آزادی کا مطلب خوف سے آزادی بھی ہے، بھوک سے آزادی بھی، ناانصافی سے آزادی بھی، امتیاز سے آزادی بھی اور اپنے عقیدے، زبان، شناخت اور رائے کے ساتھ باوقار زندگی گزارنے کی آزادی بھی۔

بدقسمتی سے آج ہندوستان کے سامنے کچھ ایسے سوالات کھڑے ہیں جنہیں نظرانداز کرنا مستقبل سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہوگا۔ گزشتہ برسوں میں مذہبی تقسیم، فرقہ وارانہ کشیدگی، نفرت انگیز بیانیے، بے روزگاری، مہنگائی اور معاشی عدم مساوات نے عام شہری کی زندگی کو مشکل بنایا ہے۔ جب سیاست شہریوں کو ان کے مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے لگے، جب اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھا جانے لگے، جب قانون کی قوت کمزور اور ہجوم کی آواز بلند ہونے لگے، تو جمہوریت کا چراغ خطرے میں پڑ جاتا ہے۔

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہندوستان کی ترقی کے ثمرات سب تک یکساں طور پر نہیں پہنچے۔ ایک طرف دولت کے نئے مراکز وجود میں آ رہے ہیں، دوسری طرف کروڑوں عام شہری روزگار، مہنگائی، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولتوں کے مسائل سے نبرد آزما ہیں۔ حکومت کسی بھی جماعت کی ہو، اس کا پہلا فرض یہ ہے کہ اقتدار کو مراعات یافتہ طبقات کا محافظ نہیں بلکہ عام آدمی کی امانت سمجھے۔

مندروں، مسجدوں، گرجا گھروں اور عبادت گاہوں کی سیاست اگر انسان کو انسان سے دور کر دے تو یہ مذہب کی خدمت نہیں، مذہب کے نام پر سیاست ہے۔ ہندوستان کی اصل طاقت اس کے مندروں میں ہی نہیں، اس کی مسجدوں میں ہی نہیں، بلکہ ان کروڑوں گھروں میں ہے جہاں مختلف مذاہب، زبانوں اور تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک ہی آسمان کے نیچے زندگی گزارتے ہیں۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ہندوستان کی تاریخ کو صرف ایک مذہب کی تاریخ بنا دینا خود ہندوستان کی تاریخ کو مختصر کر دینا ہے۔ اس سرزمین کو مسلمانوں نے بھی بنایا، ہندوؤں نے بھی؛ سکھوں نے بھی اپنا خون دیا، عیسائیوں اور دیگر برادریوں نے بھی اپنا کردار ادا کیا۔ ہندوستان کی تہذیب کسی ایک رنگ کا نام نہیں؛ یہ بے شمار رنگوں کے امتزاج سے بننے والی ایک عظیم تصویر ہے۔

آج اگر نوجوان سڑکوں پر سوال اٹھاتے ہیں تو انہیں صرف احتجاج کرنے والے ہجوم کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ ان کے سوالات میں ہندوستان کے مستقبل کی بے چینی پوشیدہ ہے۔ حکومتوں کو اقتدار کی کرسی سے اتر کر کبھی کبھی عوام کی آنکھوں میں بھی دیکھنا چاہیے۔ وہاں انہیں معلوم ہوگا کہ نوجوان صرف نعرے نہیں مانگتے؛ وہ روزگار، انصاف، تعلیم، عزت اور ایک ایسا مستقبل مانگتے ہیں جس میں ان کی شناخت ان کے خلاف ہتھیار نہ بن جائے۔

آزادی کے اسّی برس بعد اصل سوال یہ نہیں کہ ہندوستان نے کتنی ترقی کی؛ اصل سوال یہ ہے کہ اس ترقی میں آخری آدمی کا حصہ کتنا ہے؟

اگر ایک غریب اپنے بچے کو معیاری تعلیم نہ دے سکے، اگر ایک نوجوان ڈگری ہاتھ میں لے کر روزگار کی تلاش میں در در بھٹکے، اگر ایک شہری اپنے مذہب یا رائے کی وجہ سے خوف محسوس کرے، اگر اختلاف کو غداری اور سوال کو جرم سمجھا جانے لگے، تو ہمیں رک کر سوچنا ہوگا کہ آزادی کی منزل ابھی مکمل نہیں ہوئی۔

شاید آج ہندوستان کو ایک اور آزادی کی ضرورت ہے—کسی غیر ملکی حکمران سے نہیں، بلکہ نفرت سے آزادی، تعصب سے آزادی، خوف سے آزادی، غربت سے آزادی اور ناانصافی سے آزادی۔

آزادی کی اگلی جنگ بندوق سے نہیں، آئین کی روح کی حفاظت سے لڑی جائے گی۔ اس جنگ کا سپاہی وہ شہری ہوگا جو اپنے لیے آزادی مانگتے ہوئے اپنے مخالف کے لیے بھی وہی آزادی تسلیم کرے۔ جو اپنے مذہب سے محبت کرے مگر دوسرے کے مذہب سے نفرت نہ کرے۔ جو اپنے وطن پر فخر کرے مگر وطن کو کسی ایک مذہب کی جاگیر نہ سمجھے۔

آٹھ دہائیاں گزر گئیں۔ تاریخ نے ہمیں ایک موقع دیا تھا کہ ہم ایک ایسا ہندوستان تعمیر کریں جہاں مندر کی گھنٹی، مسجد کی اذان، گرجے کی گھنٹی اور گردوارے کا کیرتن ایک دوسرے کے خلاف نہیں بلکہ ایک ہی جمہوری آسمان کے نیچے سنائی دیں۔

آج بھی وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔

سوال صرف یہ ہے: ہم آزادی کی اگلی دہائیوں کے لیے کیسا ہندوستان چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں؟

ایک ایسا ہندوستان جو اپنے شہریوں کو مذہب کے خانوں میں بانٹ دے؟

یا ایک ایسا ہندوستان جس میں ہر شہری بلاخوف کہہ سکے:

یہ ملک میرا بھی ہے۔

Akbar Zahid

Publisher and Editor in Chief for Alif News Bilingual Online Daily News Paper

SUBSCRIBE US

It is a long established fact that a reader will be distracted by the readable content of a page when looking at its layout. The point of using Lorem Ipsum is that it has a more-or-less normal distribution

Copyright BlazeThemes. 2023