گاندھی کا نام، دیہات کی روح اور سیاست کی سمت – Alif News الف نیوز : مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

گاندھی کا نام، دیہات کی روح اور سیاست کی سمت

الف نیوز شمارہ نمبر:271|تاریخ: 2 صفر المکرم 1448ھ | 17 جولائی 2026| جمعہ

اداریہ

سیّد اکبر زاہد

کرناٹک حکومت کا یہ فیصلہ کہ ریاست کی تمام 5,927 گرام پنچایتوں کو "مہاتما گاندھی گرام پنچایت” کے نام سے موسوم کیا جائے، محض ایک انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ ایک علامتی اور نظریاتی اعلان بھی ہے۔ آزادی کے دن سے قبل اس فیصلے پر عمل درآمد اس امر کی یاد دہانی ہے کہ ہندوستان کی جمہوری بنیادیں گاؤں، خود اختیاری اور عوامی شرکت کے اسی تصور پر قائم کی گئی تھیں جسے مہاتما گاندھی نے "گرام سوراج” کے نام سے پیش کیا تھا۔

ریاستی حکومت کا موقف ہے کہ مرکزی حکومت کی نئی اسکیم میں مہاتما گاندھی کا نام شامل نہ رکھنے کے بعد یہ قدم ان کی فکر اور ورثے کے احترام کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ دوسری جانب اس معاملے کو سیاسی کشمکش کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے، جہاں قومی شخصیات کے نام اور ورثے کو سیاسی بیانیوں کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔

الف نیوز کا ماننا ہے کہ کسی بھی عظیم قومی رہنما کا نام محض تختیوں، عمارتوں یا اداروں پر لکھ دینے سے اس کی فکر زندہ نہیں رہتی۔ اگر گرام پنچایتیں واقعی مہاتما گاندھی کے نام سے منسوب کی جا رہی ہیں تو ان میں شفاف طرزِ حکمرانی، عوامی شرکت، سماجی مساوات، دیہی خود کفالت اور کمزور طبقات کے احترام کو بھی عملی صورت دینی ہوگی۔ یہی گاندھی کے نظریۂ گرام سوراج کی حقیقی روح ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ ہندوستان کے آئین نے مقامی خود حکمرانی کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا ہے۔ اگر گاؤں مضبوط ہوں گے، دیہی معیشت مستحکم ہوگی اور عوامی ادارے جواب دہ ہوں گے تو صرف گاندھی ہی نہیں بلکہ آئینِ ہند کے بنیادی مقاصد بھی مضبوط ہوں گے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ قومی شخصیات کے نام سیاسی اختلاف کا سبب بننے کے بجائے قومی اتحاد، خدمت خلق اور اخلاقی اقدار کی علامت بنیں۔ اگر اس فیصلے کے نتیجے میں دیہی ہندوستان کی زندگی بہتر ہوتی ہے، عوام کو بااختیار بنایا جاتا ہے اور گرام پنچایتیں واقعی عوامی فلاح کا مرکز بنتی ہیں تو یہ اقدام تاریخ میں مثبت مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ لیکن اگر یہ صرف ناموں کی تبدیلی تک محدود رہا تو اس کی معنویت بھی محض علامتی رہ جائے گی۔

الف نیوز کا ماننا ہے کہ قومی شخصیات، خصوصاً وہ عظیم مجاہدینِ آزادی جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، اپنا مال و دولت وطن پر قربان کیا، برسوں جیلوں کی صعوبتیں برداشت کیں اور بے شمار قربانیوں کے بعد ملک کو آزادی دلائی، انہیں دائمی احترام اور غیر متزلزل عزت دی جانی چاہیے۔ اگر ان کے نام پر کوئی ادارہ، اسکیم یا عوامی منصوبہ قائم کیا گیا ہو تو محض حکومتوں کی تبدیلی کے ساتھ اس کا نام بدل دینا مناسب روایت نہیں ہونی چاہیے۔ ایسی قومی یادگاریں اور نام سیاسی اختلافات سے بالاتر رہنے چاہئیں تاکہ آنے والی نسلیں بھی اپنے محسنوں کو ہمیشہ یاد رکھیں۔ شہدائے وطن اور مجاہدینِ آزادی کے ناموں اور خدمات کو زندہ رکھنا ہی ان کے لیے حقیقی خراجِ عقیدت اور ایک باشعور قوم کی پہچان ہے۔


Editorial (English)

Beyond a Name: Honouring Gandhi Through Stronger Villages

The Karnataka government’s decision to rename all 5,927 Gram Panchayats as "Mahatma Gandhi Gram Panchayat” before Independence Day is more than an administrative exercise. It is a symbolic statement about the values that shaped India’s democratic foundations—values rooted in Mahatma Gandhi’s vision of Gram Swaraj, where villages are empowered through self-governance, participation, and social responsibility.

The State government has justified the move by arguing that Mahatma Gandhi’s name has been omitted from a new Central rural development scheme, making it necessary to reaffirm his legacy at the grassroots level. Predictably, the decision has also entered the realm of political debate, reflecting the continuing contest over the interpretation of India’s national icons.

Alif News believes that the true tribute to Mahatma Gandhi lies not in renaming institutions alone but in practising the principles he championed. Transparency in governance, participatory democracy, rural self-reliance, social justice, and dignity for the weakest sections of society are the real measures of Gandhi’s legacy.

India’s constitutional commitment to local self-government gives Gram Panchayats a central role in strengthening democracy. If this initiative leads to more accountable institutions, better rural development, and greater citizen participation, the renaming will carry genuine meaning. If it remains confined to signboards and official records, however, its significance will be largely symbolic.

National leaders should inspire unity rather than political division. Their names should remind governments of the values they embodied and encourage policies that improve people’s lives. Ultimately, the success of this initiative will not be judged by what the Panchayats are called, but by how effectively they serve the people they represent.

Akbar Zahid

Publisher and Editor in Chief for Alif News Bilingual Online Daily News Paper

SUBSCRIBE US

It is a long established fact that a reader will be distracted by the readable content of a page when looking at its layout. The point of using Lorem Ipsum is that it has a more-or-less normal distribution

Copyright BlazeThemes. 2023