25°
Sunny, April 27, 2026 in Kathmandu
جمہوریت کا محافظ یا اختیار کا سایہ؟

الف نیوز شمارہ نمبر: 193| تاریخ: 28 اپریل 2026 | مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

یہ معاملہ محض ایک خبر نہیں بلکہ جمہوریت، قانون، اور شہری آزادیوں کے باہمی تعلق کا امتحان ہے۔


اداریہ

سیّد اکبر زاہد

مغربی بنگال کے انتخابی منظرنامے میں ایک نئی فہرست نے سوالات کی ایک طویل قطار کھڑی کر دی ہے۔ Election Commission of India کی جانب سے جاری کردہ مبینہ “worry list” جس میں ہزاروں افراد کے نام شامل ہیں—اور جن میں اکثریت مسلمانوں کی بتائی جا رہی ہے—نے انتخابی عمل کی شفافیت پر ایک نیا سایہ ڈال دیا ہے۔

"دی وائر” کی رپورٹ کے مطابق، اس فہرست کے تحت ممکنہ "احتیاطی حراست”  (preventive detention) کی ہدایات جاری کی گئی ہیں، تاکہ ووٹروں کو مبینہ دھمکیوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔ بظاہر یہ اقدام امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ طریقہ خود جمہوری اقدار کے خلاف نہیں جاتا؟

کولکتہ ہائی کورٹ  پہلے ہی ایسی ایک فہرست پر روک لگا چکی ہے اور واضح کیا ہے کہ الیکشن کمیشن کو "لامحدود اختیارات” حاصل نہیں۔ اس کے باوجود نئی فہرست کا اجرا، ریاستی اختیار اور عدالتی نگرانی کے درمیان ایک نازک کشمکش کو ظاہر کرتا ہے۔

جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں، بلکہ یہ خوف سے آزاد رائے دہی کا حق بھی ہے۔ اگر کسی مخصوص طبقے کو بڑی تعداد میں “ممکنہ خطرہ” قرار دے دیا جائے، تو اس سے نہ صرف ان کی شہری آزادی متاثر ہوتی ہے بلکہ پورے انتخابی عمل کی غیر جانبداری بھی سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔

یہاں اصل سوال نیت کا نہیں بلکہ طریقۂ کار کا ہے۔ کیا امن قائم کرنے کے لیے ایسے اقدامات ضروری ہیں، یا یہ اقدامات خود عدم اعتماد کو جنم دیتے ہیں؟ کیا ریاست کو اختیار حاصل ہے کہ وہ محض “اندیشے” کی بنیاد پر شہریوں کو محدود کرے؟

الف نیوز کا موقف واضح ہے:
قانون کی بالادستی اور شہری آزادی ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ تکمیل ہیں۔ اگر ایک کو بچانے کے لیے دوسرے کو قربان کیا جائے، تو جمہوریت کا توازن بگڑ جاتا ہے۔

آج مغربی بنگال کا یہ واقعہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ جمہوریت کا اصل محافظ کون ہے—ادارے، یا وہ اصول جن پر یہ ادارے قائم ہیں؟


Editorial

Guardian of Democracy or Shadow of Authority?

The unfolding electoral situation in West Bengal has raised profound questions about the balance between security and civil liberty. A newly issued “worry list” by the Election Commission of India, reportedly including thousands of individuals—many identified as Muslims—has sparked intense debate over the integrity of the democratic process.

According to The Wire, the directive calls for “preventive detention” of those suspected of potentially intimidating voters. While the stated aim is to ensure free and fair elections, the method itself invites scrutiny.

The Calcutta High Court had earlier intervened, emphasizing that the Election Commission does not possess “unbridled powers.” The emergence of a new list despite judicial caution reflects a deeper tension between administrative authority and constitutional safeguards.

Democracy is not merely the act of voting—it is the assurance of voting without fear. When a significant section of society is preemptively categorized as a “threat,” it risks undermining both civil liberties and public trust.

The critical issue here is not intent, but process. Can the state justifiably restrict freedoms based on anticipation rather than action? Or do such measures erode the very democratic values they seek to protect?

Alif News maintains a principled stance:
The rule of law and civil liberties are not opposing forces—they are complementary pillars. Undermining one in the name of the other distorts the democratic equilibrium.

West Bengal’s situation serves as a reminder that the true guardian of democracy is not merely its institutions, but the principles that guide them.


Leave a Reply

اعتماد ٹوٹتا ہے تو محض ایک پارٹی نہیں، بلکہ پورا جمہوری نظام مجروح ہوتا ہے

فیچر مضمون سیّد اکبر زاہد جمہوریت کی روح صرف ووٹ ڈالنے کے عمل میں نہیں، بلکہ اس اعتماد میں پوشیدہ ہوتی ہے جو عوام اپنے نمائندوں پر کرتے ہیں۔ جب یہ اعتماد ٹوٹتا ہے تو محض ایک پارٹی نہیں، بلکہ پورا جمہوری نظام مجروح ہوتا ہے۔ حالیہ واقعہ، جس میں Raghav Chadha اور ان کے…

Keep reading

میری دو طرحی غزلیں

اکبر زاہد طرحی مصرع: عکس تیرا ہے دل کے درپن میں عکس تیرا ہے دل کے درپن میںنور پھیلا ہوا ہے  تن من میں تیری یادوں کا اک سمندر ہےموج در موج ہے مرے بن میں میں نے ہر سو تجھی کو دیکھا ہےتو ہی موجود  جابجا  فن میں دل کی ویرانیاں مہک اٹھیںذکر آیا…

Keep reading
اپریل 2026
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
 12345
6789101112
13141516171819
20212223242526
27282930  

Support Us

ICICI Bank
Vaniyambadi Branch
AKBAR ZAHID
Account No
619101000662
IFSC Code: ICI0006191

Discover more from Alif News الف نیوز : مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading