25°
Sunny, April 22, 2026 in Kathmandu
سورت سے کولکتہ تک خصوصی ٹرینوں سے ہزاروں ووٹروں کو منتقل کرنے پر سوالیہ نشان

الف نیوز شمارہ نمبر: 188| تاریخ: 23 اپریل 2026 | مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

اداریہ

سیّد اکبر زاہد

23 اپریل 2026 ہندوستان کی تاریخ کا ایک اہم باب ! ٹمل ناڈو اور مغربی بنگال میں جمہوریت اور آمریت کے مابین امتحان . انتخابات کے دن . ٹمل ناڈو میں 23 اپریل ایک مرحلہ میں اور مغربی بنگال میں دو مرحلوں میں 23 اور 29 اپریل کو. بی جے پی کے لئے بنگال اور ٹمل ناڈو دونوں ریاستیں بہت اہم ہیں. تاہم مغربی بنگال بہت زیادہ اہم ہے. اس لئے بھارتیہ جنتا پارٹی سرکاری خرچ پر ہزاروں ووٹروں کو گجرات سے مغربی بنگال کے خصوصی ٹرینوں سے بھیج رہے ہیں تاکہ بی جےبپی کے حق میں ووٹ ڈالیں. جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا عمل نہیں، بلکہ اس کے پیچھے کارفرما نیت، شفافیت اور اخلاقی دیانت بھی اس کی روح کا حصہ ہیں۔ بھارتیہ جنتا  پارٹی کی جانب سے گجرات کے شہر سورت سے مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکتہ تک ہزاروں بنگالی ووٹروں کو خصوصی ٹرینوں کے ذریعے منتقل کرنے کا اقدام اسی روح پر ایک سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔

بظاہر یہ اقدام ایک سیاسی حکمتِ عملی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، مگر جب اس کے تمام اخراجات ایک سیاسی جماعت برداشت کرے اور اس کا مقصد مخصوص ووٹرز کو متاثر کرنا ہو، تو یہ عمل جمہوری اصولوں کے دائرے سے باہر جاتا محسوس ہوتا ہے۔ انتخابی ضابطۂ اخلاق صرف ایک رسمی دستاویز نہیں بلکہ عوامی اعتماد کی بنیاد ہے۔ اس کی خلاف ورزی، خواہ وہ قانونی باریکیوں میں چھپی ہو، دراصل جمہوریت کی ساکھ کو مجروح کرتی ہے۔

الیکشن کمیشن آف انڈیا  کے سامنے پیش کی گئی شکایت میں جس قانونی پہلو کی نشاندہی کی گئی ہے، وہ Representation of the People Act, 1951 کی دفعہ 123(5) ہے، جو ووٹروں کو متاثر کرنے کے لئے سہولتیں فراہم کرنے کو بدعنوانی کے زمرے میں رکھتی ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے، تو یہ محض ایک سیاسی چال نہیں بلکہ جمہوری اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس اقدام کو اس بنیاد پر درست قرار دیا جا رہا ہے کہ یہ ووٹرز اپنے اہلِ خانہ کو بھی متاثر کریں گے، جس سے لاکھوں ووٹوں پر بالواسطہ اثر پڑ سکتا ہے۔ یہ سوچ جمہوریت کو ایک عددی کھیل میں تبدیل کر دیتی ہے، جہاں شعور، آزادی اور انفرادی رائے کی اہمیت کم ہو جاتی ہے۔

اپوزیشن جماعتوں کا ردِ عمل محض سیاسی مخالفت نہیں بلکہ ایک وسیع تر خدشے کی عکاسی ہے: کیا ہم ایسی جمہوریت کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں وسائل کی طاقت، عوامی رائے پر غالب آ جائے؟ اگر ایسا ہے، تو یہ نہ صرف انتخابی نظام بلکہ عوامی اعتماد کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔

جمہوریت کی اصل طاقت اس کی غیر جانبداری اور شفافیت میں ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں ان اصولوں سے انحراف کریں گی، تو جمہوریت محض ایک رسم بن کر رہ جائے گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ ادارے فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کریں تاکہ عوام کا اعتماد بحال رہے اور جمہوری اقدار محفوظ رہیں۔


EDITORIAL

Democracy is not merely about casting votes; it is equally defined by the intent, transparency, and ethical integrity that underpin the process. The reported move by the Bharatiya Janata Party to arrange special trains transporting thousands of Bengali voters from Surat to Kolkata raises serious questions about these very foundations.

While the initiative may be framed as a logistical or strategic effort, the fact that a political party is allegedly bearing the full cost to mobilize a specific voter base blurs the line between facilitation and undue influence. The Model Code of Conduct is not a mere procedural guideline—it is the moral backbone of electoral democracy. Any action that appears to circumvent its spirit risks eroding public trust.

A complaint filed before the Election Commission of India invokes Section 123(5) of the Representation of the People Act, 1951, which classifies certain inducements or provisions of transport to voters as “corrupt practices.” If substantiated, this would not just be a matter of political maneuvering, but a breach of democratic law.

Equally troubling is the rationale reportedly attributed to the move—that these voters could influence their families back in West Bengal, potentially affecting millions of votes indirectly. Such a perspective reduces democracy to a numbers game, diminishing the value of independent thought and individual choice.

The opposition’s criticism, therefore, should not be dismissed as routine political rivalry. It reflects a deeper चिंता: Are we moving toward a system where the power of resources overshadows the sanctity of voter autonomy?

The strength of democracy lies in fairness and credibility. If these are compromised, elections risk becoming symbolic rather than substantive. It is imperative that institutions conduct a prompt and impartial inquiry, ensuring that public faith in the democratic process remains intact.

Leave a Reply

کیا دنیا ایک نئی صلیبی جنگ کے دہانے پر ہے؟

عالمی سیاست، مذہبی بیانیہ اور مسلم دنیا کا مستقبل سیّد اکبر زاہد حالیہ برسوں میں عالمی سیاست کا منظرنامہ نہایت پیچیدہ اور تشویشناک ہوتا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں، طاقت کے نئے توازن کی کشمکش، اور عالمی طاقتوں کی اسٹریٹیجک ترجیحات نے دنیا کو ایک بار پھر اس سوال کے سامنے لا کھڑا…

Keep reading

میری دو طرحی غزلیں

اکبر زاہد طرحی مصرع: عکس تیرا ہے دل کے درپن میں عکس تیرا ہے دل کے درپن میںنور پھیلا ہوا ہے  تن من میں تیری یادوں کا اک سمندر ہےموج در موج ہے مرے بن میں میں نے ہر سو تجھی کو دیکھا ہےتو ہی موجود  جابجا  فن میں دل کی ویرانیاں مہک اٹھیںذکر آیا…

Keep reading
اپریل 2026
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
 12345
6789101112
13141516171819
20212223242526
27282930  

Support Us

ICICI Bank
Vaniyambadi Branch
AKBAR ZAHID
Account No
619101000662
IFSC Code: ICI0006191

Discover more from Alif News الف نیوز : مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading