الف نیوز شمارہ نمبر: 172| تاریخ: 7 اپریل 2026 | مدیرِاعلٰی: سیّد اکبر زاہد
اداریہ
سیّد اکبر زاہد
سمندروں کی سیاست، انسانیت کا امتحان: آبنائے ہرمز سے باب المندب تک

دنیا کے نقشے پر کچھ مقامات ایسے ہوتے ہیں جو محض جغرافیہ نہیں بلکہ تقدیر کے دروازے ہوتے ہیں۔ Bab al-Mandeb Strait اور Strait of Hormuz انہی دروازوں میں شامل ہیں—جہاں سے گزر کر نہ صرف جہاز بلکہ عالمی معیشت کی سانسیں چلتی ہیں۔
آج جب Iran کے اثر و رسوخ سے وابستہ حلقوں کی جانب سے باب المندب کو بند کرنے کی دھمکی دی جا رہی ہے، تو یہ محض ایک عسکری حکمتِ عملی نہیں بلکہ عالمی نظام کے اعصاب پر ہاتھ رکھنے کے مترادف ہے۔ اگر ہرمز اور باب المندب دونوں راستے مسدود ہو جائیں تو دنیا کی توانائی کا ایک بڑا حصہ اور ایشیا سے یورپ جانے والی تجارت کی شہ رگ کٹ سکتی ہے۔
یہ صرف تیل کا بحران نہیں ہوگا—
یہ روٹی، روشنی اور روزگار کا بحران ہوگا۔
معیشت کا گلا گھونٹتا ہوا جغرافیہ

اگر یہ آبی راستے بند ہو گئے تو:
- تیل اور گیس کی قیمتیں آسمان کو چھوئیں گی
- ایشیا سے یورپ تک برآمدات رک جائیں گی
- فیکٹریاں بند، مزدور بے روزگار اور معیشتیں مفلوج ہو جائیں گی
- ترقی پذیر ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوں گے
یہ بحران کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ہر باورچی خانے، ہر پٹرول پمپ اور ہر بازار تک پھیل جائے گا۔
جنگ یا جنون؟ واشنگٹن کی بے چینی

اس پوری کشمکش میں Donald Trump کا کردار ایک پیچیدہ اور متنازعہ پہلو بن چکا ہے۔ ان کی سخت زبان، دھمکیاں اور جنگی بیانات نہ صرف عالمی سطح پر بے چینی پیدا کر رہے ہیں بلکہ خود امریکہ کے اندر بھی سوالات کو جنم دے رہے ہیں۔
امریکہ میں ان کی مقبولیت میں کمی، سیاسی دباؤ، اور ممکنہ مواخذے (impeachment) کی بازگشت—یہ سب اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ بعض اوقات خارجہ پالیسی داخلی سیاست کا عکس بن جاتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب قیادت عدم استحکام کا شکار ہو تو فیصلے زیادہ جذباتی اور کم دانشمندانہ ہو جاتے ہیں۔
کیا یہ جنگ واقعی قومی مفاد کے لیے ہے؟
یا ایک سیاسی بقا کی جنگ؟
تاریخ کا آئینہ
یہ پہلا موقع نہیں کہ سمندری راستے عالمی طاقتوں کے ٹکراؤ کا میدان بنے ہوں۔ ماضی میں نہر سویز کا بحران ہو یا خلیج کی جنگیں—ہر بار دنیا نے دیکھا کہ جب راستے بند ہوتے ہیں تو انسانیت کی راہیں بھی تنگ ہو جاتی ہیں۔
مگر آج کا خطرہ زیادہ بڑا ہے—
کیونکہ دنیا پہلے سے زیادہ جڑی ہوئی ہے، اور ایک جھٹکا پوری زنجیر کو ہلا سکتا ہے۔
انسانیت کا سوال
یہ اداریہ کسی ایک ملک کے حق یا مخالفت میں نہیں—
بلکہ ایک سوال ہے:
کیا دنیا طاقت کے بل پر چلے گی یا حکمت کے؟
کیا سمندر جنگ کے میدان بنیں گے یا امن کے راستے؟
اگر باب المندب اور ہرمز بند ہو گئے تو شاید جہاز رک جائیں—
مگر سب سے بڑا نقصان یہ ہوگا کہ انسانیت کا سفر رک جائے گا۔
Oceans of Power, Humanity on Trial: From Hormuz to Bab al-Mandeb

Some places on the world map are not merely geography—they are gateways of destiny. The Bab al-Mandeb Strait and the Strait of Hormuz are among them—arteries through which the lifeblood of the global economy flows.
Today, as voices linked to Iran threaten the closure of Bab al-Mandeb, the implications extend far beyond strategy. If both chokepoints are disrupted, a significant portion of the world’s energy supply and Asia-Europe trade could come to a halt.
This would not just be an energy crisis—
It would be a crisis of survival.
When Geography Strangles the Economy

The consequences could be severe:
- Skyrocketing oil and gas prices
- Disrupted global trade routes
- Industrial shutdowns and mass unemployment
- Severe impact on developing economies
From factories to households, the shockwaves would be felt everywhere.
War or Political Desperation? Washington’s Dilemma

At the center of this storm stands Donald Trump—whose aggressive rhetoric and threats have amplified global tensions.
Domestically, declining approval, political pressure, and impeachment discussions raise a critical question:
Is foreign policy being shaped by strategic necessity—or political survival?
History suggests that unstable leadership often leads to volatile decisions.
A Lesson from History
From the Suez Crisis to Gulf conflicts, the world has repeatedly witnessed how control over waterways can reshape global order. Yet today’s interconnected world makes the stakes far higher—one disruption can ripple across continents.
The Moral Question
This is not merely about nations—it is about humanity:
Will power dictate the seas, or wisdom guide them?
Will oceans become battlefields—or bridges of peace?
If Hormuz and Bab al-Mandeb fall silent, ships may stop—
But the greater tragedy will be the halt of human progress itself.





Leave a Reply