25°
Sunny, April 22, 2026 in Kathmandu
کیا عالمی سیاست اور معیشت ڈونالڈ ٹرمپ کے اجازت ناموں کی محتاج ہے؟

الف نیوز شمارہ نمبر: 143؛ تاریخ: 7 مارچ 2026؛ مدیرِ اعلی: سیّد اکبر زاہد

اداریہ

سیّد اکبر زاہد

اجازت ناموں کی دنیا  یا خودمختاری کا زوال؟

مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نے صرف سرحدوں کو نہیں ہلایا، اس نے عالمی سیاست کے ضمیر کو بھی جھنجھوڑ دیا ہے۔ اسی ہنگامہ خیز پس منظر میں ایک خبر سامنے آئی: امریکہ نے بھارت کو تیس دن کے لئے روسی تیل خریدنے کی عارضی اجازت دے دی ہے۔

بظاہر یہ ایک معاشی سہولت ہے، مگر اس خبر کے الفاظ کے اندر ایک ایسا سوال پوشیدہ ہے جو عالمی سیاست کی روح کو چھو لیتا ہے:
کیا اب خودمختار ممالک کو اپنے معاشی فیصلوں کے لئے بھی کسی اور کی اجازت درکار ہوگی؟

بھارت ایک بڑی معیشت اور ایک خودمختار ریاست ہے۔ اگر اسے توانائی کے حصول جیسے بنیادی معاملے میں بھی اجازت کی ضرورت محسوس ہو تو یہ صرف ایک سفارتی واقعہ نہیں بلکہ عالمی طاقت کے عدم توازن کی علامت ہے۔

یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ عالمی سیاست ہمیشہ طاقت کے سائے میں چلتی رہی ہے۔ مگر طاقت اور بالادستی میں ایک باریک فرق ہوتا ہے۔ طاقت اگر نظم پیدا کرے تو وہ قیادت کہلاتی ہے، مگر اگر وہ دوسروں کے فیصلوں کو قابو میں لینے لگے تو وہ بالادستی میں بدل جاتی ہے۔

اسی تناظر میں امریکہ کی جانب سے ایران کے بارے میں دیے گئے حالیہ بیانات نے بھی دنیا کو حیران کیا ہے۔ اگر کسی ملک کے اندرونی سیاسی یا مذہبی نظام کے بارے میں بیرونی طاقتیں یہ تاثر دیں کہ وہاں قیادت کا تعین بھی ان کی مرضی سے ہوگا تو یہ محض سفارتی بیان نہیں بلکہ ایک خطرناک علامت ہے۔

یہ سوال اب صرف ایران یا بھارت کا نہیں رہا۔ یہ سوال پوری دنیا کا ہے۔

کیا عالمی نظام اس نہج پر پہنچ چکا ہے جہاں طاقتور ممالک اجازت نامے تقسیم کریں گے اور باقی دنیا اپنی خودمختاری کی تشریح نئے سرے سے کرے گی؟

تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جب طاقت انصاف کے بغیر استعمال ہو تو وہ دیرپا نظام قائم نہیں کر سکتی۔ سلطنتیں طاقت سے بنتی ضرور ہیں مگر انصاف کے بغیر قائم نہیں رہتیں۔

دنیا کی قوموں کے سامنے آج اصل چیلنج یہی ہے کہ وہ اپنے باہمی تعلقات کو غلبے کے اصول پر نہیں بلکہ احترام کے اصول پر استوار کریں۔ کیونکہ اگر عالمی سیاست اجازت ناموں کے نظام میں تبدیل ہو جائے تو آزادی صرف آئین کی کتابوں میں رہ جائے گی، حقیقت کی دنیا میں نہیں۔

آج دنیا کو ایک نئے سوال کا سامنا ہے:

کیا آنے والا عالمی نظام تعاون اور مساوات کی بنیاد پر قائم ہوگا،
یا طاقت کے ایوانوں سے جاری ہونے والے اجازت ناموں کے ذریعے چلایا جائے گا؟


Editorial

A World of Permissions — or the Erosion of Sovereignty?

The war in the Middle East has shaken not only borders but also the moral conscience of global politics. Amid this turmoil, a striking announcement emerged: the United States has granted India a temporary 30-day permission to purchase Russian oil.

At first glance, it appears to be a pragmatic economic arrangement. Yet behind this statement lies a deeper and more unsettling question:

Have sovereign nations reached a point where even their economic choices require permission from another power?

India is one of the world’s largest economies and a sovereign state. If such a country appears to need approval for securing energy supplies, the issue is no longer merely diplomatic; it becomes a symbol of imbalance in the global order.

Power has always played a role in international relations. However, there is a subtle but crucial difference between leadership and dominance. Power that creates stability may be called leadership, but when it begins to dictate the decisions of others, it transforms into dominance.

In this context, recent statements from Washington regarding Iran have also raised eyebrows across the world. If the impression is created that even the selection of leadership within another nation could be shaped by external powers, it moves beyond diplomacy and begins to resemble political pressure.

This question, therefore, is no longer about Iran or India alone.
It concerns the very structure of the global system.

Has the world reached a stage where powerful nations distribute permissions while others must reinterpret the meaning of sovereignty?

History teaches us a simple truth: power without justice rarely sustains a lasting order. Empires may rise through strength, but they endure only through fairness.

The real challenge before the nations of the world today is to build their relationships not upon the principle of dominance, but upon the principle of mutual respect.

For if global politics turns into a system of permissions, freedom may survive in constitutions and speeches—but not in reality.

The world must now confront a defining question:

Will the emerging global order be shaped by cooperation and equality,
or by permissions issued from the corridors of power?


Leave a Reply

کیا دنیا ایک نئی صلیبی جنگ کے دہانے پر ہے؟

عالمی سیاست، مذہبی بیانیہ اور مسلم دنیا کا مستقبل سیّد اکبر زاہد حالیہ برسوں میں عالمی سیاست کا منظرنامہ نہایت پیچیدہ اور تشویشناک ہوتا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں، طاقت کے نئے توازن کی کشمکش، اور عالمی طاقتوں کی اسٹریٹیجک ترجیحات نے دنیا کو ایک بار پھر اس سوال کے سامنے لا کھڑا…

Keep reading

میری دو طرحی غزلیں

اکبر زاہد طرحی مصرع: عکس تیرا ہے دل کے درپن میں عکس تیرا ہے دل کے درپن میںنور پھیلا ہوا ہے  تن من میں تیری یادوں کا اک سمندر ہےموج در موج ہے مرے بن میں میں نے ہر سو تجھی کو دیکھا ہےتو ہی موجود  جابجا  فن میں دل کی ویرانیاں مہک اٹھیںذکر آیا…

Keep reading
مارچ 2026
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
 1
2345678
9101112131415
16171819202122
23242526272829
3031  

Support Us

ICICI Bank
Vaniyambadi Branch
AKBAR ZAHID
Account No
619101000662
IFSC Code: ICI0006191

Discover more from Alif News الف نیوز : مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading