جنوبی ایران میں دو اسکولوں پر حملہ، درجنوں بچیاں جاں بحق
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی انسانی قیمت
مِناب میں قیامت کا منظر
Iran کے جنوبی صوبہ ہرمزگان کے شہر Minab میں ایک گرلز ایلیمنٹری اسکول پر مبینہ اسرائیلی حملے کے نتیجے میں کم از کم 85 افراد جاں بحق جبکہ 60 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔
ایرانی سرکاری خبر رساں اداروں کے مطابق حملے میں عمارت مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بن گئی۔ امدادی کارکن ملبہ ہٹا رہے ہیں جبکہ بستے، کتابیں اور ٹوٹی ہوئی میزیں اس سانحے کی خاموش گواہی دے رہی ہیں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے اسے “بچوں کے خلاف کھلا جرم” قرار دیتے ہوئے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے فوری اقدام کا مطالبہ کیا ہے۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ “یہ جرم بے جواب نہیں رہے گا۔”
تہران کے نواح میں دوسرا حملہ
ایرانی خبر رساں ادارے مہر کے مطابق دارالحکومت تہران کے مشرقی علاقے میں ایک اور اسکول کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں کم از کم دو طالب علم جاں بحق ہوئے۔
یہ حملے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جاری بمباری کے نتیجے میں پورا خطہ شدید کشیدگی کا شکار ہے۔
دعوے اور سوالات
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے فوری طور پر ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
تاہم یہ واقعہ اس سوال کو شدت سے اجاگر کر رہا ہے کہ آیا حملے واقعی صرف عسکری اہداف تک محدود ہیں یا شہری آبادی اس تنازع کی قیمت ادا کر رہی ہے۔
گزشتہ برس جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ جنگ کے دوران بھی ایران میں شہری ہلاکتیں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا تھا۔
الف نیوز کا مؤقف
جنگ کے نقشے پر اسکول نہیں بنائے جاتے،
مگر ملبے میں اکثر بستے ہی ملتے ہیں۔
سیاست کے ایوانوں میں فیصلے ہوتے ہیں،
اور ان کے نتائج کھیل کے میدانوں اور کلاس رومز میں دکھائی دیتے ہیں۔
الف نیوز کا موقف واضح ہے:
جب جنگ بچوں تک پہنچ جائے تو وہ صرف تنازع نہیں رہتی — وہ انسانیت کا امتحان بن جاتی ہے۔
الف نیوز — خبر کی سچائی، دل کی گواہی، اور انسانیت کی آواز





Leave a Reply