الف نیوز شمارہ نمبر: 126؛ تاریخ:17 فروری 2026; مدیرِ اعلی: سیّد اکبر زاہد
اداریہ
سیّد اکبر زاہد
جنوبی ایشیا کی بدلتی ہوئی سیاست میں Bangladesh ایک خاموش مگر مؤثر کردار کے طور پر ابھرا ہے۔ خلیجِ بنگال کے ساحل پر واقع یہ ملک اپنی جغرافیائی اہمیت، معاشی ترقی اور علاقائی روابط کے باعث اب صرف ایک ہمسایہ ریاست نہیں، بلکہ ایک اسٹریٹجک مرکز کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ڈھاکہ اپنی خارجہ پالیسی کو کس سمت میں لے جا رہا ہے — اور اس توازن کی قیمت کیا ہو سکتی ہے؟
ہمسایگی اور حقیقت پسندی
بنگلہ دیش کی خارجہ پالیسی کی بنیاد تاریخی طور پر بھارت کے ساتھ قریبی تعلقات پر رہی ہے۔ 1971 کی جنگِ آزادی سے لے کر موجودہ دور تک India کے ساتھ سیاسی و معاشی روابط کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ سرحدی تجارت، توانائی کے معاہدے اور آبی وسائل جیسے حساس مسائل باہمی انحصار کو ظاہر کرتے ہیں۔
لیکن ساتھ ہی ڈھاکہ نے چین کے ساتھ بھی اپنے تعلقات کو وسعت دی ہے۔ انفراسٹرکچر، بندرگاہوں اور صنعتی منصوبوں میں China کی سرمایہ کاری نے بنگلہ دیش کو بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا اہم حصہ بنا دیا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں خارجہ پالیسی کو باریک توازن درکار ہے — ایک ایسا توازن جو کسی ایک بلاک کی طرف مکمل جھکاؤ سے گریز کرے۔
خلیجی دنیا اور معاشی مفادات
خارجہ پالیسی کا ایک اہم ستون مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ تعلقات ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر میں مقیم لاکھوں بنگلہ دیشی محنت کشوں کی ترسیلاتِ زر ملکی معیشت کا اہم سہارا ہیں۔ لہٰذا خلیجی ممالک کے ساتھ سفارتی ہم آہنگی محض سیاسی نہیں بلکہ معاشی ضرورت بھی ہے۔
مغربی دنیا اور جمہوری بیانیہ
بنگلہ دیش کو امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ بھی اپنے تعلقات کو متوازن رکھنا ہے۔ انسانی حقوق، انتخابی شفافیت اور جمہوری عمل سے متعلق عالمی توقعات خارجہ پالیسی کے ساتھ داخلی سیاست کو بھی متاثر کرتی ہیں۔ عالمی تجارتی منڈیوں تک رسائی اور گارمنٹس ایکسپورٹس کا مستقبل بھی انہی تعلقات سے جڑا ہے۔
روہنگیا بحران — اخلاقی اور سفارتی آزمائش
Myanmar سے آنے والے لاکھوں روہنگیا مہاجرین کی میزبانی نے بنگلہ دیش کو انسانی ہمدردی کی علامت تو بنایا، مگر اس کے ساتھ معاشی اور سفارتی دباؤ بھی بڑھا۔ عالمی برادری کی حمایت کے باوجود اس مسئلے کا پائیدار حل ابھی تک سامنے نہیں آیا۔ یہ بحران ڈھاکہ کی سفارتی صلاحیت کا ایک مسلسل امتحان ہے۔
بنگلہ دیش کی خارجہ پالیسی کا اصل چیلنج یہی ہے کہ وہ ’’سب کے ساتھ دوستی، کسی کے خلاف نہیں‘‘ کے اصول کو عملی جامہ کیسے پہناتا ہے۔ جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی طاقتوں کی کشمکش کے درمیان غیر جانب داری اور خودمختاری کو برقرار رکھنا آسان نہیں۔
الف نیوز کے نزدیک، بنگلہ دیش کی کامیابی اسی میں ہے کہ وہ اپنی معاشی ترجیحات، قومی خودمختاری اور علاقائی امن کے درمیان ایک دانشمندانہ توازن قائم رکھے۔ خارجہ پالیسی صرف سفارتی بیانات کا نام نہیں، بلکہ قومی وقار اور عوامی مفاد کے تحفظ کا آئینہ ہوتی ہے۔
Editorial
Bangladesh’s Foreign Policy — Balancing Sovereignty and Strategic Realities
Syed Akbar Zahid
In the evolving geopolitical landscape of South Asia, Bangladesh has emerged as a quiet yet significant strategic actor. Positioned along the Bay of Bengal, the country’s geographic location, economic growth, and diplomatic engagements have elevated its regional importance.
Between India and China
Historically, Bangladesh has maintained close ties with India, rooted in the legacy of its 1971 liberation struggle. Trade, connectivity, and energy cooperation remain central pillars of this partnership.
Simultaneously, Dhaka has expanded its engagement with China, particularly in infrastructure and development financing. Chinese-backed projects under the Belt and Road Initiative have strengthened economic links, but they also demand careful strategic balancing to avoid overdependence.
The Gulf Connection
Relations with Gulf nations are equally crucial. Remittances from millions of Bangladeshi expatriate workers form a vital part of the national economy. Maintaining diplomatic harmony with the Middle East is therefore both an economic and strategic imperative.
Western Expectations and Democratic Credentials
Bangladesh must also navigate its relations with Western powers, particularly concerning trade access, human rights discourse, and democratic governance. The garment export sector — a cornerstone of the economy — is deeply tied to Western markets.
The Rohingya Challenge
The humanitarian responsibility of hosting Rohingya refugees from Myanmar has enhanced Bangladesh’s moral standing globally but has also imposed economic and diplomatic pressures. Achieving a sustainable resolution remains a major foreign policy test.
A Doctrine of Balance
Bangladesh’s guiding principle of “friendship to all, malice towards none” reflects its aspiration for strategic autonomy. However, in a region marked by great-power competition, neutrality requires careful calibration and institutional resilience.
Ultimately, foreign policy is not merely about alliances; it is about safeguarding national dignity, economic stability, and regional peace. Bangladesh’s future influence will depend on how effectively it balances these intertwined priorities.





Leave a Reply