الف نیوز شمارہ نمبر: 123؛ تاریخ: 14 فروری 2026؛ مدیرِ اعلی: سیّد اکبر زاہد
🖋 اداریہ
سیّد اکبر زاہد
بنگلہ دیش کے 2026 کے عام انتخابات نے جنوبی ایشیا کی سیاست میں ایک ایسا منظر پیش کیا جو اکثر ہمارے خطے میں نایاب سمجھا جاتا ہے: اختلاف کے باوجود وقار، مقابلے کے باوجود شائستگی، اور شکست کے باوجود قبولیت۔
سیاسی طور پر حساس ماحول، 2024 کے بحران کے بعد کی تبدیلی، اور گہرے نظریاتی اختلافات کے باوجود انتخابی عمل مجموعی طور پر پُرامن رہا۔ نہ جلسوں میں زبان کی حدیں ٹوٹیں، نہ سڑکوں پر تشدد کے مناظر عام ہوئے، اور نہ ہی سیاسی قیادت نے ایک دوسرے کی “پگڑی اچھالنے” کی روایت اپنائی۔ یہ طرزِ عمل خود اس بات کی دلیل ہے کہ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں، بلکہ سیاسی تہذیب کا بھی امتحان ہے۔
سب سے اہم کردار الیکشن کمیشن کا رہا، جس نے انتظامی نظم و ضبط اور شفافیت کے ذریعے اپنی غیر جانبداری کو ثابت کیا۔ انتخابی مراحل کی بروقت تکمیل، نتائج کے اعلان میں ترتیب اور اعتماد کی فضا قائم رکھنا — یہ سب ایسے اقدامات تھے جنہوں نے عوامی اعتماد کو مضبوط کیا۔ جب ادارے مضبوط ہوں تو سیاست بھی سنبھل جاتی ہے۔
انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد ایک اور خوش آئند پہلو سامنے آیا: ہارنے والوں نے عوامی فیصلے کو تسلیم کیا۔ جمہوریت میں شکست بھی ایک امتحان ہوتی ہے — اور اس امتحان میں سنجیدگی، صبر اور قومی مفاد کو ترجیح دینا سیاسی بلوغت کی علامت ہے۔ شکست کو سازش قرار دینا آسان ہوتا ہے، مگر اسے عوامی رائے سمجھ کر قبول کرنا قیادت کی پختگی کو ظاہر کرتا ہے۔
دوسری طرف کامیاب جماعت کے رہنما، Tarique Rahman، نے اپنے ابتدائی بیان میں مفاہمت اور قومی اتحاد کی بات کی۔ انہوں نے مخالفین کو ساتھ لے کر چلنے، اداروں کے استحکام اور معاشی بحالی پر توجہ دینے کا عزم ظاہر کیا۔ فتح کے لمحے میں تحمل اور عاجزی کا اظہار کرنا سیاسی کردار کی اصل پہچان ہوتا ہے۔
یہ انتخابات اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ جمہوریت کی کامیابی صرف اکثریت کے حصول میں نہیں بلکہ اس بات میں ہے کہ ہارنے والا بھی خود کو اسی نظام کا حصہ سمجھے۔ جب شکست دلوں میں زخم نہ چھوڑے اور فتح غرور میں تبدیل نہ ہو تو قومیں آگے بڑھتی ہیں۔
بنگلہ دیش نے اس مرحلے پر یہ پیغام دیا ہے کہ سیاسی اختلاف دشمنی نہیں ہوتا، اور اقتدار خدمت کا ذریعہ ہونا چاہیے، انتقام کا نہیں۔ جنوبی ایشیا جیسے خطے میں جہاں اکثر انتخابی سیاست کشیدگی کا باعث بنتی ہے، یہ مثال ایک امید افزا نظیر ہے۔
الف نیوز کی نظر میں یہ انتخابی عمل محض سیاسی تبدیلی نہیں بلکہ جمہوری وقار کی بحالی ہے۔ اب اصل امتحان حکمرانی کا ہے — کیا یہ سیاسی شائستگی عملی پالیسیوں میں بھی نظر آئے گی؟ اگر ایسا ہوا تو بنگلہ دیش نہ صرف اپنے لیے بلکہ پورے خطے کے لیے ایک مثبت مثال بن سکتا ہے۔
جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ اختلاف کے باوجود اعتماد باقی رہے — اور بنگلہ دیش نے اس بار یہی اعتماد زندہ رکھا ہے۔





Leave a Reply