25°
Sunny, April 22, 2026 in Kathmandu
بنگلہ دیش کا فیصلہ کن انتخاب — جمہوریت کا نیا امتحان

Image

الف نیوز | خصوصی رپورٹ

تاریخ: 12 فروری 2026

ڈھاکہ کی فضا میں آج ایک غیر معمولی سنجیدگی ہے۔ عوام قطاروں میں کھڑے ہیں، فوجی دستے پولنگ اسٹیشنوں کے باہر تعینات ہیں، اور بنگلہ دیش اپنی تاریخ کے ایک اور نازک موڑ پر ووٹ ڈال رہا ہے۔

یہ عام انتخابات سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی 2024 میں معزولی کے بعد پہلے قومی انتخابات ہیں۔ ان کے زوال کے بعد اٹھارہ ماہ کی عبوری مدت گزری، اور اب ملک ایک نئے سیاسی باب کے آغاز کے دہانے پر کھڑا ہے۔

مقابلہ کن کے درمیان؟

اس بار اصل مقابلہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور جماعتِ اسلامیکے زیرِ قیادت اتحاد کے درمیان ہے۔ رائے عامہ کے جائزے بی این پی کو سبقت دیتے دکھائی دیتے ہیں، تاہم انتخابی فضا میں غیر یقینی کی دھند اب بھی باقی ہے۔

بی این پی کے رہنما طارق الرحمٰن پُراعتماد ہیں کہ ان کی جماعت اقتدار میں واپسی کرے گی، جب کہ جماعتِ اسلامی کے امیر شفیق الرحمٰن منظم عوامی مہم کے ذریعے تاریخ رقم کرنے کی کوشش میں ہیں۔

ڈھاکہ-8 کے حلقے میں بی این پی کے مضبوط امیدوار مرزا عباس کو نیشنل سٹیزن پارٹی کے ناصر الدین پوٹاواری کی سخت ٹکر کا سامنا ہے، جنہیں گیارہ جماعتی اتحاد کی حمایت حاصل ہے۔

انتخابی اعداد و شمار

  • تقریباً 12 کروڑ 70 لاکھ ووٹرز رجسٹرڈ
  • 1,755 امیدوار
  • 50 سیاسی جماعتیں
  • 83 خواتین امیدوار
  • تقریباً 9 لاکھ سیکیورٹی اہلکار تعینات

ووٹنگ صبح 7:30 بجے شروع ہوئی اور شام 4:30 بجے تک جاری رہے گی۔ گنتی فوری طور پر شروع ہوگی اور ابتدائی رجحانات نصف شب تک متوقع ہیں۔

جولائی چارٹر — اصلاحات کا سوال

یہ انتخاب صرف حکومت سازی تک محدود نہیں۔ عوام “جولائی چارٹر” کے نام سے پیش کردہ آئینی اصلاحات پر بھی فیصلہ کریں گے۔ مبصرین کے مطابق یہ ریفرنڈم بنگلہ دیش کے آئینی ڈھانچے اور جمہوری سمت کو ازسرِ نو متعین کر سکتا ہے۔

ملک بھر میں غیر معمولی سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ سابق حکمران جماعت عوامی لیگ پر پابندی ہے اور اس کے مضبوط گڑھ گوپال گنج میں پرتشدد جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

نوجوان ووٹر روزگار، سڑکوں اور سیاسی اصلاحات کی امید رکھتے ہیں۔ کچھ بزرگ شہری عبوری حکومت کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ووٹ سے گریز کی بات کرتے ہیں۔

آج کا دن محض بیلٹ پیپر کا دن نہیں، بلکہ اعتماد کی بحالی کا امتحان ہے۔ بنگلہ دیش کے عوام یہ طے کریں گے کہ آیا ملک ماضی کی کشمکش سے نکل کر استحکام کی طرف بڑھتا ہے یا ایک نئی سیاسی آزمائش میں داخل ہوتا ہے۔


Bangladesh at a Crossroads — A Defining Democratic Test

Alif News | Special Report

February 12, 2026

Bangladesh began voting on Thursday in a pivotal parliamentary election — the first since the dramatic ouster of former Prime Minister Sheikh Hasina in 2024 following weeks of mass protests.

After an 18-month transitional phase, the nation now stands at a historic juncture. Nearly 127 million voters are eligible to cast their ballots across 299 constituencies.

The Main Contenders

The principal contest is between the Bangladesh Nationalist Party (BNP) and a coalition led by the Islamist Jamaat-e-Islami. Opinion polls indicate a slight edge for the BNP, though uncertainties remain.

BNP leader Tarique Rahman is confident of reclaiming power. Meanwhile, Jamaat chief Shafiqur Rahman has mounted a disciplined grassroots campaign that could potentially usher in the first Islamist-led government in constitutionally secular Bangladesh.

A key battleground is Dhaka-8, where BNP heavyweight Mirza Abbas faces a serious challenge from Nasiruddin Patowary, backed by an 11-party alliance.

Security and Stakes

Nearly one million security personnel have been deployed nationwide — the largest security operation in the country’s electoral history. Polling began at 7:30 a.m. local time and will close at 4:30 p.m., with early trends expected around midnight.

The election also includes a referendum on the “July Charter,” a sweeping constitutional reform package that could reshape Bangladesh’s political architecture.

The Awami League, led by Sheikh Hasina, remains banned from contesting. Reports of unrest in its stronghold Gopalganj underline the fragile political atmosphere.

A Vote Beyond Politics

For young voters, the priorities are jobs, infrastructure, and reform. For others, it is about legitimacy and stability.

Today’s ballot is more than a choice of government — it is a referendum on trust, transition, and the democratic future of Bangladesh.


Leave a Reply

کیا دنیا ایک نئی صلیبی جنگ کے دہانے پر ہے؟

عالمی سیاست، مذہبی بیانیہ اور مسلم دنیا کا مستقبل سیّد اکبر زاہد حالیہ برسوں میں عالمی سیاست کا منظرنامہ نہایت پیچیدہ اور تشویشناک ہوتا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں، طاقت کے نئے توازن کی کشمکش، اور عالمی طاقتوں کی اسٹریٹیجک ترجیحات نے دنیا کو ایک بار پھر اس سوال کے سامنے لا کھڑا…

Keep reading

میری دو طرحی غزلیں

اکبر زاہد طرحی مصرع: عکس تیرا ہے دل کے درپن میں عکس تیرا ہے دل کے درپن میںنور پھیلا ہوا ہے  تن من میں تیری یادوں کا اک سمندر ہےموج در موج ہے مرے بن میں میں نے ہر سو تجھی کو دیکھا ہےتو ہی موجود  جابجا  فن میں دل کی ویرانیاں مہک اٹھیںذکر آیا…

Keep reading
فروری 2026
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
 1
2345678
9101112131415
16171819202122
232425262728  

Support Us

ICICI Bank
Vaniyambadi Branch
AKBAR ZAHID
Account No
619101000662
IFSC Code: ICI0006191

Discover more from Alif News الف نیوز : مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading