دنیا کے بازار میں سونا مہنگا اور انسان سستا: جنگ کا تازیانہ – Alif News الف نیوز : مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

دنیا کے بازار میں سونا مہنگا اور انسان سستا: جنگ کا تازیانہ

الف نیوز شمارہ نمبر: 294|تاریخ: 25 صفر 1448ھ|9 جولائی 2026| اتوار

اداریہ

سیّد اکبر زاہد

دنیا کے بازار میں سونا مہنگا ہو رہا ہے، اور انسان سستا۔

یہ شاید ہمارے عہد کا سب سے تلخ جملہ ہے۔

بازار ہمیں بتا رہا ہے کہ سونے کی قیمت بڑھ گئی ہے۔ سرمایہ کار اپنے اثاثے محفوظ کرنے کے لیے سونے کی طرف دوڑ رہے ہیں۔ عالمی منڈیاں مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی، تیل کی بڑھتی قیمتوں، آبنائے ہرمز کے خطرات اور جنگ کے امکانات سے لرز رہی ہیں۔ مگر اس تمام ہنگامے میں ایک سوال ایسا ہے جسے اقتصادی اعداد و شمار کے شور میں مسلسل دبا دیا جاتا ہے:

آخر انسان کی قیمت کیا ہے؟

سونے کا ایک گرام پندرہ ہزار روپے سے تجاوز کر جائے تو بازار چونک اٹھتا ہے؛ مگر ایک انسان کے ملبے تلے دب جانے پر ہماری آنکھیں کتنی دیر نم رہتی ہیں؟

یہ کیسا زمانہ ہے جس میں جنگ کے خدشے سے سونے کی قیمت بڑھتی ہے اور انسانوں کی جان کی قیمت گھٹتی جاتی ہے؟ جہاں میز پر بیٹھے سرمایہ کار جنگ کے نقشے میں منافع کے امکانات تلاش کرتے ہیں، وہیں کسی ماں کی گود میں ایک بچہ اپنی زندگی کی آخری سانسیں گن رہا ہوتا ہے۔ ایک طرف بازار محفوظ سرمایہ کاری کے لیے سونا خریدتا ہے، دوسری طرف لاکھوں انسان اپنے گھروں، روزگار اور مستقبل سے محروم ہو کر پناہ کی تلاش میں بھٹکتے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی نے ایک بار پھر دنیا کو یاد دلایا ہے کہ جدید تہذیب نے ٹیکنالوجی تو بے مثال پیدا کر لی، مگر امن پیدا کرنے کا ہنر اب بھی نہیں سیکھا۔

آبنائے ہرمز صرف پانی کی ایک گزرگاہ نہیں؛ یہ دنیا کی معیشت کی شہ رگ ہے۔ وہاں ایک معمولی خلل تیل کی قیمتوں کو ہلا دیتا ہے، بازاروں میں اضطراب پیدا کر دیتا ہے اور ہزاروں میل دور بیٹھے عام آدمی کی زندگی کو متاثر کرتا ہے۔ مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جن طاقتوں کے فیصلے اس اضطراب کو جنم دیتے ہیں، ان کے ایوانوں میں انسانی مصیبتوں کا حساب اکثر معاشی اشاریوں کے حاشیے پر بھی نہیں ہوتا۔

جنگ شروع ہونے سے پہلے بازار ڈرتا ہے۔

جنگ شروع ہونے کے بعد انسان مرتا ہے۔

اور جنگ ختم ہونے کے بعد نسلیں اس کے ملبے میں زندگی تلاش کرتی رہتی ہیں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں سونے کی چمک سے آنکھیں ہٹا کر اس دنیا کے چہرے کو دیکھنا چاہیے جس پر جنگ کے سائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ سونے کی قیمت میں اضافہ محض ایک معاشی خبر نہیں؛ یہ اس عالمی بے یقینی کی علامت بھی ہے جس میں انسان اپنے مستقبل سے خوف زدہ ہو کر اپنی دولت کو محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل کر رہا ہے۔

مگر دولت کو محفوظ رکھنے والی دنیا انسان کو محفوظ رکھنے میں ناکام ہو جائے تو اس دولت کا کیا حاصل؟

ہم نے تاریخ میں دیکھا ہے کہ جنگیں کبھی صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتیں۔ ان کی آگ بازاروں، گھروں، اسکولوں، اسپتالوں اور انسانی نفسیات تک پہنچتی ہے۔ ایک میزائل صرف ایک عمارت نہیں گراتا؛ وہ کسی خاندان کی کئی نسلوں کی امید بھی گرا دیتا ہے۔ ایک بندرگاہ کی ناکہ بندی صرف تجارت نہیں روکتی؛ وہ کسی غریب گھر کے چولہے کی آگ بھی کم کر دیتی ہے۔

اور پھر بھی دنیا حساب لگاتی ہے کہ تیل کتنے ڈالر بڑھا، سونا کتنے روپے مہنگا ہوا، اسٹاک مارکیٹ کتنے پوائنٹس گری اور کرنسی کتنی کمزور ہوئی۔

کاش کوئی عالمی منڈی ایسی بھی ہوتی جہاں انسانی جان کی قیمت روزانہ طے ہوتی۔

کاش کسی خبر کی سرخی یوں بنتی:

آج جنگ کے نتیجے میں انسانیت کی قدر میں اتنی کمی ہوئی۔

مگر ایسی کوئی منڈی نہیں۔ کیونکہ انسانیت کو ہم نے منافع اور نقصان کے ترازو سے باہر نکال دیا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ دنیا جنگ کو محض سفارتی بحران یا عسکری حکمتِ عملی کے طور پر نہ دیکھے۔ ہر جنگ کے پیچھے انسان ہوتا ہے، اور ہر جنگ کے بعد ملبے میں صرف عمارتیں نہیں ملتیں، خواب بھی دفن ہوتے ہیں۔

آج سونا مہنگا ہے۔

کل شاید اس سے بھی مہنگا ہو جائے۔

مگر اگر انسان کی جان، امن، روٹی اور عزت کی قیمت مسلسل گرتی رہی تو ایک دن دنیا کے پاس سونے کے ڈھیر تو ہوں گے، مگر اسے سنبھالنے کے لیے انسان نہیں ہوں گے۔

اصل دولت سونا نہیں، امن ہے۔

اور شاید آج دنیا کو سب سے زیادہ اسی دولت کی ضرورت ہے۔

Akbar Zahid

Publisher and Editor in Chief for Alif News Bilingual Online Daily News Paper

SUBSCRIBE US

It is a long established fact that a reader will be distracted by the readable content of a page when looking at its layout. The point of using Lorem Ipsum is that it has a more-or-less normal distribution

Copyright BlazeThemes. 2023

Discover more from Alif News الف نیوز : مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading