/ Aug 09, 2026
Trending
نئی دہلی، 7 اگست:
مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ نے فارن کنٹری بیوشن (ریگولیشن) ترمیمی بل 2026 (FCRA Amendment Bill 2026) پر عیسائی تنظیموں کے تحفظات کے درمیان مختلف مسیحی فرقوں کے نمائندہ وفد سے ملاقات کی اور یقین دلایا کہ مجوزہ قانون کسی مخصوص مذہب کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں بلکہ تمام اداروں پر یکساں طور پر لاگو ہونے والا ضابطہ ہے۔
وفد کے ایک رکن کے مطابق وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ حکومت کا مقصد نہ عیسائی برادری کو ہراساں کرنا ہے اور نہ ہی کسی دوسرے مذہب یا سماجی طبقے کو۔ ملاقات کے دوران بعض نمائندوں نے خاص طور پر اس شق پر تشویش ظاہر کی جس کے تحت ایف سی آر اے رجسٹریشن ختم ہونے یا تجدید نہ ہونے کی صورت میں غیر ملکی عطیات سے بنائے گئے اثاثے سرکاری نگرانی میں منتقل ہو سکتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق اس بل پر پارلیمنٹ میں 12 اگست کو بحث متوقع ہے۔
FCRA Amendment Bill Is Religion-Neutral, Amit Shah Assures Christian Delegation
New Delhi, August 7:
Union Home Minister Amit Shah has assured representatives of Christian denominations that the proposed Foreign Contribution (Regulation) Amendment Bill, 2026, is religion-neutral and is not intended to target any particular faith.
According to members of the delegation, Shah stated that the government has no intention of harassing the Christian community or any other religious group. During the meeting, the delegation expressed concerns regarding provisions that could allow government supervision or vesting of assets created through foreign contributions if an organisation’s FCRA registration lapses, is cancelled, or is not renewed.
The Bill is expected to be taken up for discussion in Parliament on August 12.
مجوزہ بل کے متن اور اس کے خلاصے کا جائزہ لینے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ بل میں کہیں بھی "Christian”، "Muslim” یا کسی دوسرے مخصوص مذہب کا نام لے کر الگ قانون یا الگ پابندی نہیں رکھی گئی۔ اس کا اطلاق ان تمام اداروں پر یکساں ہے جو ایف سی آر اے کے تحت غیر ملکی فنڈ وصول کرتے ہیں، خواہ وہ مذہبی، تعلیمی، سماجی یا رفاہی ادارے ہوں۔
تاہم چند نکات پر اختلاف اور خدشات موجود ہیں:
بل کی زبان (text) میں براہِ راست کسی مخصوص مذہب کے خلاف امتیازی شق موجود نہیں ہے۔
البتہ ناقدین کا مؤقف ہے کہ:
دوسری طرف حکومت کا مؤقف ہے کہ:
اس لیے دستیاب متن کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ بل میں براہِ راست عیسائی یا مسلم اداروں کے خلاف امتیازی دفعات شامل ہیں۔ البتہ اس کے عملی اثرات اور اختیارات کے ممکنہ استعمال پر قانونی اور سیاسی بحث جاری ہے۔
It is a long established fact that a reader will be distracted by the readable content of a page when looking at its layout. The point of using Lorem Ipsum is that it has a more-or-less normal distribution
Copyright BlazeThemes. 2023
Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.