ایف سی آر اے ترمیمی بل مذہب سے بالاتر ہے، عیسائی تنظیموں کو حکومت کی یقین دہانی – Alif News الف نیوز : مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

ایف سی آر اے ترمیمی بل مذہب سے بالاتر ہے، عیسائی تنظیموں کو حکومت کی یقین دہانی

 FCRA ترمیمی بل سوالات کی زد میں

نئی دہلی، 7 اگست:
مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ نے فارن کنٹری بیوشن (ریگولیشن) ترمیمی بل 2026 (FCRA Amendment Bill 2026) پر عیسائی تنظیموں کے تحفظات کے درمیان مختلف مسیحی فرقوں کے نمائندہ وفد سے ملاقات کی اور یقین دلایا کہ مجوزہ قانون کسی مخصوص مذہب کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں بلکہ تمام اداروں پر یکساں طور پر لاگو ہونے والا ضابطہ ہے۔

وفد کے ایک رکن کے مطابق وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ حکومت کا مقصد نہ عیسائی برادری کو ہراساں کرنا ہے اور نہ ہی کسی دوسرے مذہب یا سماجی طبقے کو۔ ملاقات کے دوران بعض نمائندوں نے خاص طور پر اس شق پر تشویش ظاہر کی جس کے تحت ایف سی آر اے رجسٹریشن ختم ہونے یا تجدید نہ ہونے کی صورت میں غیر ملکی عطیات سے بنائے گئے اثاثے سرکاری نگرانی میں منتقل ہو سکتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق اس بل پر پارلیمنٹ میں 12 اگست کو بحث متوقع ہے۔


FCRA Amendment Bill Is Religion-Neutral, Amit Shah Assures Christian Delegation

New Delhi, August 7:
Union Home Minister Amit Shah has assured representatives of Christian denominations that the proposed Foreign Contribution (Regulation) Amendment Bill, 2026, is religion-neutral and is not intended to target any particular faith.

According to members of the delegation, Shah stated that the government has no intention of harassing the Christian community or any other religious group. During the meeting, the delegation expressed concerns regarding provisions that could allow government supervision or vesting of assets created through foreign contributions if an organisation’s FCRA registration lapses, is cancelled, or is not renewed.

The Bill is expected to be taken up for discussion in Parliament on August 12.


بل کا قانونی اور غیر جانب دار تجزیہ

مجوزہ بل کے متن اور اس کے خلاصے کا جائزہ لینے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ بل میں کہیں بھی "Christian”، "Muslim” یا کسی دوسرے مخصوص مذہب کا نام لے کر الگ قانون یا الگ پابندی نہیں رکھی گئی۔ اس کا اطلاق ان تمام اداروں پر یکساں ہے جو ایف سی آر اے کے تحت غیر ملکی فنڈ وصول کرتے ہیں، خواہ وہ مذہبی، تعلیمی، سماجی یا رفاہی ادارے ہوں۔

تاہم چند نکات پر اختلاف اور خدشات موجود ہیں:

  • اگر کسی ادارے کی FCRA رجسٹریشن منسوخ ہو جائے، ختم ہو جائے یا تجدید نہ ہو، تو اس کے غیر ملکی فنڈ سے بنے اثاثے ایک سرکاری Designated Authority کے تحت جا سکتے ہیں۔
  • اگر بعد میں رجسٹریشن بحال ہو جائے تو غیر استعمال شدہ اثاثے واپس کیے جا سکتے ہیں، لیکن مقررہ مدت تک بحالی نہ ہونے پر یہ اثاثے مستقل طور پر حکومت کے اختیار میں جا سکتے ہیں۔
  • بل میں یہ بھی درج ہے کہ اگر اثاثہ عبادت گاہ ہو تو اس کی مذہبی حیثیت برقرار رکھی جائے گی۔

کیا اس میں عیسائی یا مسلم اداروں کے ساتھ تعصب ہے؟

بل کی زبان (text) میں براہِ راست کسی مخصوص مذہب کے خلاف امتیازی شق موجود نہیں ہے۔

البتہ ناقدین کا مؤقف ہے کہ:

  • چونکہ ہندوستان میں غیر ملکی عطیات حاصل کرنے والے مذہبی و رفاہی اداروں میں عیسائی تنظیموں کی تعداد نسبتاً زیادہ ہے، اس لیے عملی طور پر ان پر اس قانون کا اثر زیادہ پڑ سکتا ہے۔
  • بعض مسلم، عیسائی اور سول سوسائٹی تنظیمیں بھی خدشہ ظاہر کر رہی ہیں کہ وسیع اختیارات کے باعث اس قانون کے غلط استعمال کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔

دوسری طرف حکومت کا مؤقف ہے کہ:

  • قانون کا مقصد کسی مذہب کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ غیر ملکی فنڈز میں شفافیت، جواب دہی اور قومی سلامتی کو یقینی بنانا ہے، اور یہ تمام اداروں پر یکساں لاگو ہوگا۔

اس لیے دستیاب متن کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ بل میں براہِ راست عیسائی یا مسلم اداروں کے خلاف امتیازی دفعات شامل ہیں۔ البتہ اس کے عملی اثرات اور اختیارات کے ممکنہ استعمال پر قانونی اور سیاسی بحث جاری ہے۔

Akbar Zahid

Publisher and Editor in Chief for Alif News Bilingual Online Daily News Paper

SUBSCRIBE US

It is a long established fact that a reader will be distracted by the readable content of a page when looking at its layout. The point of using Lorem Ipsum is that it has a more-or-less normal distribution

Copyright BlazeThemes. 2023

Discover more from Alif News الف نیوز : مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading