خاموش اسکرینوں کا شور اور سوچتی ہوئی قوم کا زوال – Alif News الف نیوز : مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

خاموش اسکرینوں کا شور اور سوچتی ہوئی قوم کا زوال

الف نیوز شمارہ نمبر: 292|جلد: 1| تاریخ: 22 صفر 1448ھ| 7 اگست 2026| جمعہ

اداریہ

سیّد اکبر زاہد

ہر عہد کی اپنی ایک جنگ ہوتی ہے۔ کبھی یہ جنگ تلواروں سے لڑی جاتی تھی، کبھی توپوں اور بارود سے، اور آج یہ جنگ اسکرینوں کی روشنی میں لڑی جا رہی ہے۔ افسوس کہ اس جنگ میں گولیوں سے زیادہ خطرناک وہ مختصر ویڈیوز، جھوٹی سرخیاں اور مصنوعی ذہانت سے تراشے گئے فریب ہیں جو لمحوں میں ذہنوں کو مسخر کر لیتے ہیں۔

ہم ایسے زمانے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں خبر کی موت گولی سے نہیں، رفتار سے ہوتی ہے۔ سچ ابھی دروازہ کھٹکھٹاتا ہی ہے کہ جھوٹ ہزاروں اسکرینوں پر جشن منا چکا ہوتا ہے۔ تحقیق اب زحمت سمجھی جاتی ہے اور جذبات کو حقیقت پر ترجیح دینا ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔

یہ محض میڈیا کا بحران نہیں، یہ شعور کا بحران ہے۔ قومیں اس وقت کمزور نہیں ہوتیں جب ان کے خزانے خالی ہو جائیں، بلکہ اس وقت شکست کھاتی ہیں جب ان کے ذہن دوسروں کے بنائے ہوئے بیانیوں کے اسیر بن جائیں۔ آج ہمارے فیصلے دلیل سے نہیں، "ٹرینڈ” سے بنتے ہیں۔ ہمارے غصے کا رخ بھی کوئی اور متعین کرتا ہے اور ہماری خوشی کا معیار بھی کوئی اور لکھ دیتا ہے۔

مصنوعی ذہانت نے علم کے دروازے ضرور کھولے ہیں، مگر اسی کے ساتھ جعل سازی کی ایسی راہیں بھی پیدا کر دی ہیں جن میں سچ اور جھوٹ کی سرحدیں دھندلا رہی ہیں۔ ایک جعلی تصویر، ایک مصنوعی آواز، یا چند سیکنڈ کی ترمیم شدہ ویڈیو پورے معاشرے کو اشتعال میں مبتلا کر سکتی ہے۔ ایسے میں سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ ٹیکنالوجی کتنی طاقتور ہو گئی ہے، بلکہ یہ ہے کہ انسان کی اخلاقی ذمہ داری کتنی کمزور ہو گئی ہے۔

صحافت اگر صرف رفتار کا نام رہ جائے تو وہ اپنے وجود سے غداری کرتی ہے۔ صحافت کا اصل منصب یہ ہے کہ وہ شور کے درمیان سکوت کی آواز سنے، ہجوم کے نعرے سے الگ ہو کر حقیقت کا چراغ روشن کرے، اور عوام کے جذبات نہیں بلکہ ان کے شعور کی رہنمائی کرے۔ جو قلم طاقتور کے خوف سے خاموش ہو جائے یا مقبولیت کی ہوس میں سچ کو قربان کر دے، وہ قلم نہیں، تاریخ کے خلاف ایک گواہی ہے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ہر خبر کو قبول کرنے سے پہلے اس کے ماخذ کو جانچیں، ہر تصویر پر یقین کرنے سے پہلے اس کی حقیقت کو پرکھیں، اور ہر وائرل پیغام سے پہلے اپنے ضمیر سے سوال کریں۔ ایک باشعور قاری ہی آزاد معاشرے کی بنیاد ہے، ورنہ اطلاعات کی فراوانی کے باوجود جہالت پہلے سے زیادہ منظم شکل اختیار کر لے گی۔

الف نیوز کا ایمان ہے کہ صحافت کا مستقبل مصنوعی ذہانت نہیں، مصنوعی شور کے مقابلے میں انسانی دیانت ہے۔ اگر قلم سچائی سے وابستہ رہے، اگر خبر امانت بن کر لکھی جائے، اور اگر قاری سوال کرنے کی عادت نہ چھوڑے، تو فریب کی ہر سلطنت ایک دن ضرور منہدم ہوگی۔

کیونکہ تاریخ کا یہ اٹل اصول ہے کہ جھوٹ چاہے روشنی کی رفتار سے سفر کرے، مگر سچ اپنی خاموش وقار کے ساتھ آخرکار منزل تک پہنچ ہی جاتا ہے۔

Akbar Zahid

Publisher and Editor in Chief for Alif News Bilingual Online Daily News Paper

SUBSCRIBE US

It is a long established fact that a reader will be distracted by the readable content of a page when looking at its layout. The point of using Lorem Ipsum is that it has a more-or-less normal distribution

Copyright BlazeThemes. 2023

Discover more from Alif News الف نیوز : مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading