25°
Sunny, April 18, 2026 in Kathmandu
امریکہ۔بیلجیم سفارتی تناؤ: مذہبی آزادی یا قانونی بالادستی؟

برسلز، 18 فروری 2026 (الف نیوز)

یورپ کے قلب میں واقع ریاست Belgium اور اس کے دیرینہ اتحادی United States کے درمیان ایک غیر معمولی سفارتی کشیدگی سامنے آئی ہے۔ بیلجیم نے امریکی سفیر Bill White کو طلب کر کے ان کے اس سوشل میڈیا بیان پر سخت احتجاج درج کرایا ہے جس میں انہوں نے بیلجیم پر یہودی شہریوں کے خلاف "انسدادِ سامیت” پر مبنی کارروائی کا الزام عائد کیا تھا۔

بیلجیم کے وزیرِ خارجہ Maxime Prévot نے اپنے بیان میں کہا کہ بیلجیم کو "انسدادِ سامیت” سے جوڑنا نہ صرف غلط بلکہ خطرناک گمراہ کن بیانیہ ہے، جو حقیقی نفرت کے خلاف عالمی جدوجہد کو کمزور کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی ملک میں تعینات سفیر پر لازم ہے کہ وہ مقامی عدالتی نظام اور منتخب نمائندوں کا احترام کرے۔

پس منظر میں یہ معاملہ شہر Antwerp میں تین افراد کے خلاف جاری تحقیقات سے جڑا ہے، جن پر الزام ہے کہ وہ بغیر مستند طبی تربیت کے مذہبی ختنہ (Circumcision) انجام دے رہے تھے۔

امریکی سفیر نے اس تحقیق کو "یہودی برادری کو ہراساں کرنے” کے مترادف قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بیلجیم حکومت مذہبی "موہیلز” (Mohels) کو قانونی استثنا دے۔

دوسری جانب بیلجیم حکومت کا موقف ہے کہ ملکی قانون مذہبی ختنہ کی اجازت دیتا ہے، بشرطیکہ وہ مستند طبی ماہر کے ذریعے صحت و سلامتی کے معیارات کے مطابق انجام دیا جائے۔ حکومت نے واضح کیا کہ جاری عدالتی تحقیقات پر تبصرہ مناسب نہیں۔


اگر اس واقعہ کو دیکھا جائے تو یہ محض ایک سفارتی بیان بازی نہیں، بلکہ تین اہم سوالات کی علامت ہے:

۱. مذہبی آزادی اور ریاستی قانون کا توازن

یہ تنازع دراصل اس قدیم سوال کو تازہ کرتا ہے کہ کیا مذہبی رسوم کو مکمل قانونی استثنا حاصل ہونا چاہیے یا ریاست کو شہریوں کی صحت و سلامتی کے لیے ضابطے بنانے کا حق ہے؟

۲۔ سفارتکاری کی حدود

سفیر کا براہِ راست جاری عدالتی عمل پر تنقید کرنا سفارتی آداب سے انحراف سمجھا جا رہا ہے۔ اس سے یہ پیغام ابھرتا ہے کہ عالمی طاقتیں بعض اوقات انسانی حقوق کے نام پر داخلی معاملات میں مداخلت کا تاثر پیدا کر دیتی ہیں۔

۳۔ یورپ میں مذہبی حساسیت

یورپ میں حالیہ برسوں میں مذہبی شناخت، اقلیتی حقوق اور سیکولر قانون کے درمیان کشمکش شدت اختیار کر چکی ہے۔ اس واقعہ نے اس نازک توازن کو ایک بار پھر عالمی منظرنامے پر لا کھڑا کیا ہے۔


الف نیوز کا اخلاقی زاویہ

نفرت کا مقابلہ نفرت سے نہیں، قانون سے کیا جاتا ہے۔
مذہبی آزادی کا تحفظ ریاستی استحکام کے ساتھ ہی ممکن ہے۔

یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سفارتی تعلقات محض بیانات سے نہیں بلکہ باہمی احترام، قانونی حدود کی پاسداری اور تہذیبی حساسیت سے قائم رہتے ہیں۔

اگر مذہبی آزادی کو خطرہ ہے تو اسے آئینی دائرے میں حل کیا جائے، اور اگر قانون کی بالادستی داؤ پر ہے تو اسے جذباتی بیانیوں کے شور میں گم نہ ہونے دیا جائے۔

الف نیوز کا پیغام واضح ہے:
انصاف اور احترام — یہی عالمی امن کی اصل بنیاد ہیں۔

Leave a Reply

کیا دنیا ایک نئی صلیبی جنگ کے دہانے پر ہے؟

عالمی سیاست، مذہبی بیانیہ اور مسلم دنیا کا مستقبل سیّد اکبر زاہد حالیہ برسوں میں عالمی سیاست کا منظرنامہ نہایت پیچیدہ اور تشویشناک ہوتا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں، طاقت کے نئے توازن کی کشمکش، اور عالمی طاقتوں کی اسٹریٹیجک ترجیحات نے دنیا کو ایک بار پھر اس سوال کے سامنے لا کھڑا…

Keep reading

میری دو طرحی غزلیں

اکبر زاہد طرحی مصرع: عکس تیرا ہے دل کے درپن میں عکس تیرا ہے دل کے درپن میںنور پھیلا ہوا ہے  تن من میں تیری یادوں کا اک سمندر ہےموج در موج ہے مرے بن میں میں نے ہر سو تجھی کو دیکھا ہےتو ہی موجود  جابجا  فن میں دل کی ویرانیاں مہک اٹھیںذکر آیا…

Keep reading
فروری 2026
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
 1
2345678
9101112131415
16171819202122
232425262728  

Support Us

ICICI Bank
Vaniyambadi Branch
AKBAR ZAHID
Account No
619101000662
IFSC Code: ICI0006191

Discover more from Alif News الف نیوز

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading