26 جنوری یعنی یومِ جمہوریہ
ہر سال 26 جنوری کو بھارت خود کو ایک آئین یافتہ جمہوری ریاست کے طور پر یاد کرتا ہے۔ ترنگا لہراتا ہے، پریڈ ہوتی ہے، تقاریر گونجتی ہیں، اور ہم فخر سے کہتے ہیں: یہ ہمارا یومِ جمہوریہ ہے۔
آج جب ہم اس بھارت میں سانس لیتے ہیں، تو فضاؤں میں ایک عجیب سی بے چینی محسوس ہوتی ہے۔ کہیں نفرت کے نعرے ہیں، کہیں خاموش خوف، کہیں شناخت کے نام پر تقسیم، اور کہیں انسان ہونے کی سزا۔
ایسے میں یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے:
کیا اس ملک کی فضا میں آج بھی محبت اور انسانیت کی خوشبو باقی ہے، یا یہ فضا مسموم ہو چکی ہے؟
بھارتی آئین ہمیں مساوات، آزادی، انصاف اور اخوت کا وعدہ دیتا ہے۔ یہی وہ اقدار تھیں جن کے خواب کے ساتھ یہ ملک وجود میں آیا۔ آج آئین کی دفعات کتابوں میں تو محفوظ ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان کی روح ہمارے رویّوں میں زندہ ہے؟
ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں اختلافِ رائے کو غداری، سوال کو سازش، اور خاموشی کو وفاداری سمجھا جانے لگا ہے۔ مذہب، زبان اور ثقافت — جو کبھی اس سرزمین کی طاقت تھیں — آج اکثیری سیاست کی ایندھن بن چکی ہیں۔
جمہوریت اگر صرف اکثریت کی حکمرانی کا نام ہو جائے، اور اقلیت کے خوف کو نظر انداز کر دے، تو وہ جمہوریت نہیں رہتی — وہ ہجوم کی طاقت بن جاتی ہے۔
لیکن اس اندھیرے میں بھی کچھ چراغ ہیں۔
وہ استاد جو نفرت کے زمانے میں محبت کا سبق پڑھاتا ہے،
وہ صحافی جو دباؤ کے باوجود سچ لکھتا ہے،
وہ نوجوان جو سوال کرتا ہے،
اور وہ شہری جو کمزور کے حق میں کھڑا ہوتا ہے —
یہی لوگ دراصل جمہوریہ کی اصل روح ہیں۔
26 جنوری ہمیں یہ یاد دلانے آتا ہے کہ ملک صرف سرحدوں سے نہیں بنتا،
ملک انسانوں کے رویّوں سے بنتا ہے۔
اگر ہمارے دلوں میں انصاف نہ ہو، تو آئین کی سیاہی بے معنی ہو جاتی ہے۔
اگر ہماری زبان پر نفرت ہو، تو ترنگا بھی سوال بن جاتا ہے۔
آج بھارت کو ایک بار پھر یہ طے کرنا ہے کہ
وہ خوف کے سائے میں جئے گا،
یا آئین کی روشنی میں۔
الف نیوز یہ سمجھتا ہے کہ
امن کوئی کمزوری نہیں،
انسانیت کوئی جرم نہیں،
اور سوال اٹھانا کوئی گناہ نہیں۔
یومِ جمہوریہ کا اصل جشن اسی دن ہوگا
جب اس ملک کا ہر شہری —
بغیر خوف، بغیر شناخت کے بوجھ،
صرف انسان ہونے کے ناتے
سکون سے سانس لے سکے۔
یہی جمہوریت ہے۔
یہی بھارت کا خواب تھا۔
اور یہی 26 جنوری کا اصل پیغامِ امن ہے۔





Leave a Reply