25°
Sunny, April 14, 2026 in Kathmandu
یومِ جمہوریہ مبارک ہو


26 جنوری یعنی یومِ جمہوریہ

ہر سال 26 جنوری کو بھارت خود کو ایک آئین یافتہ جمہوری ریاست کے طور پر یاد کرتا ہے۔ ترنگا لہراتا ہے، پریڈ ہوتی ہے، تقاریر گونجتی ہیں، اور ہم فخر سے کہتے ہیں: یہ ہمارا یومِ جمہوریہ ہے۔

آج جب ہم اس بھارت میں سانس لیتے ہیں، تو فضاؤں میں ایک عجیب سی بے چینی محسوس ہوتی ہے۔ کہیں نفرت کے نعرے ہیں، کہیں خاموش خوف، کہیں شناخت کے نام پر تقسیم، اور کہیں انسان ہونے کی سزا۔
ایسے میں یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے:
کیا اس ملک کی فضا میں آج بھی محبت اور انسانیت کی خوشبو باقی ہے، یا یہ فضا مسموم ہو چکی ہے؟

بھارتی آئین ہمیں مساوات، آزادی، انصاف اور اخوت کا وعدہ دیتا ہے۔ یہی وہ اقدار تھیں جن کے خواب کے ساتھ یہ ملک وجود میں آیا۔ آج آئین کی دفعات  کتابوں میں تو محفوظ ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان کی روح ہمارے رویّوں میں زندہ ہے؟

ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں اختلافِ رائے کو غداری، سوال کو سازش، اور خاموشی کو وفاداری سمجھا جانے لگا ہے۔ مذہب، زبان اور ثقافت — جو کبھی اس سرزمین کی طاقت تھیں — آج اکثیری سیاست کی ایندھن بن چکی ہیں۔
جمہوریت اگر صرف اکثریت کی حکمرانی کا نام ہو جائے، اور اقلیت کے خوف کو نظر انداز کر دے، تو وہ جمہوریت نہیں رہتی — وہ ہجوم کی طاقت بن جاتی ہے۔

لیکن اس اندھیرے میں بھی کچھ چراغ ہیں۔
وہ استاد جو نفرت کے زمانے میں محبت کا سبق پڑھاتا ہے،
وہ صحافی جو دباؤ کے باوجود سچ لکھتا ہے،
وہ نوجوان جو سوال کرتا ہے،
اور وہ شہری جو کمزور کے حق میں کھڑا ہوتا ہے —
یہی لوگ دراصل جمہوریہ کی اصل روح ہیں۔

26 جنوری ہمیں یہ یاد دلانے آتا ہے کہ ملک صرف سرحدوں سے نہیں بنتا،
ملک انسانوں کے رویّوں سے بنتا ہے۔
اگر ہمارے دلوں میں انصاف نہ ہو، تو آئین کی سیاہی بے معنی ہو جاتی ہے۔
اگر ہماری زبان پر نفرت ہو، تو ترنگا بھی سوال بن جاتا ہے۔

آج بھارت کو ایک بار پھر یہ طے کرنا ہے کہ
وہ خوف کے سائے میں جئے گا،
یا آئین کی روشنی میں۔

الف نیوز یہ سمجھتا ہے کہ
امن کوئی کمزوری نہیں،
انسانیت کوئی جرم نہیں،
اور سوال اٹھانا کوئی گناہ نہیں۔

یومِ جمہوریہ کا اصل جشن اسی دن ہوگا
جب اس ملک کا ہر شہری —
بغیر خوف، بغیر شناخت کے بوجھ،
صرف انسان ہونے کے ناتے
سکون سے سانس لے سکے۔

یہی جمہوریت ہے۔
یہی بھارت کا خواب تھا۔
اور یہی 26 جنوری کا اصل پیغامِ امن ہے۔


Leave a Reply

کیا دنیا ایک نئی صلیبی جنگ کے دہانے پر ہے؟

عالمی سیاست، مذہبی بیانیہ اور مسلم دنیا کا مستقبل سیّد اکبر زاہد حالیہ برسوں میں عالمی سیاست کا منظرنامہ نہایت پیچیدہ اور تشویشناک ہوتا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں، طاقت کے نئے توازن کی کشمکش، اور عالمی طاقتوں کی اسٹریٹیجک ترجیحات نے دنیا کو ایک بار پھر اس سوال کے سامنے لا کھڑا…

Keep reading
  • قرآنی پیغام برائے پوری انسانیت
    يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰكُمۡ مِّنۡ ذَكَرٍ وَّاُنۡثٰى وَجَعَلۡنٰكُمۡ شُعُوۡبًا وَّقَبَآٮِٕلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ اِنَّ اَكۡرَمَكُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ اَ تۡقٰٮكُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ خَبِيۡرٌ‏  ( سورۃ الحجرات: ١٣) ترجمہ: اے لوگو ! ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے ایک مرد اور ایک عورت سے اور ہم نے تمہیں مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کردیا ہے تاکہ… Read more: قرآنی پیغام برائے پوری انسانیت

میری دو طرحی غزلیں

اکبر زاہد طرحی مصرع: عکس تیرا ہے دل کے درپن میں عکس تیرا ہے دل کے درپن میںنور پھیلا ہوا ہے  تن من میں تیری یادوں کا اک سمندر ہےموج در موج ہے مرے بن میں میں نے ہر سو تجھی کو دیکھا ہےتو ہی موجود  جابجا  فن میں دل کی ویرانیاں مہک اٹھیںذکر آیا…

Keep reading
جنوری 2026
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
 1234
567891011
12131415161718
19202122232425
262728293031  

Support Us

ICICI Bank
Vaniyambadi Branch
AKBAR ZAHID
Account No
619101000662
IFSC Code: ICI0006191

Discover more from Alif News الف نیوز

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading