/ Jun 19, 2026
Trending


الف نیوز |حوالہ: ڈاکٹر عائشہ صدیقہ
ہندوستان کی کثیر لسانی تہذیبی روایت میں ایک درخشاں باب اس وقت رقم ہوا جب تمل زبان کے قدیم اور عظیم ترین کلاسیکی متن تولکاپیئم کا جامع اردو ترجمہ معروف ماہرِ لسانیات، استادِ محترم ڈاکٹر امان اللہ ایم۔بی کے قلم سے منظرِ عام پر آیا۔ یہ ترجمہ محض ایک کتاب نہیں بلکہ اردو اور تمل زبانوں کے درمیان ایک مضبوط علمی و تہذیبی پل کی حیثیت رکھتا ہے۔
ڈاکٹر امان اللہ، جو مدراس یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کے سربراہ ہیں اور متعدد علمی و ادبی کتب کے مصنف کے طور پر جانے جاتے ہیں، اس سے قبل بھی تمل ادب کے شہرۂ آفاق شاہکار تروکرل کا معیاری اردو ترجمہ پیش کر کے علمی حلقوں میں اپنی پہچان قائم کر چکے ہیں۔ ان کا تازہ کارنامہ اردو قارئین کے لیے تمل لسانیات، صرف و نحو اور قدیم فکری روایت کے در وا کرتا ہے۔
اس علمی ترجمے کی رسمِ اجرا ملک کے باوقار ادبی و تہذیبی اجتماع کاشی تمل سنگمم 4.0 کے موقع پر انجام پائی، جہاں اتر پردیش کے وزیرِ اعلیٰ، تمل ناڈو کے گورنر اور معزز مرکزی وزرا کی موجودگی نے اس کارنامے کو قومی سطح پر وقار بخشا۔ یہ منظر اس حقیقت کا عملی اظہار تھا کہ زبانیں سرحدیں نہیں بناتیں بلکہ تہذیبوں کو جوڑتی ہیں۔
یہ ترجمہ صرف ایک متن کی منتقلی نہیں، بلکہ صدیوں پر محیط تمل فکری وراثت کو اردو کی روح میں سمو دینے کی ایک شعوری کاوش ہے—ایسی کاوش جو ہندوستان کی گنگا-جمنی تہذیب، فکری ہم آہنگی اور لسانی احترام کو مزید مضبوط کرتی ہے۔
آخر میں الف نیوز ڈاکٹر امان اللہ ایم۔بی کو اس عظیم علمی خدمت پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہے اور دعاگو ہے کہ ان کی علمی کاوشیں آئندہ نسلوں کے لیے چراغِ راہ بنتی رہیں۔
اللہ ربّ کریم ان کی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔ آمین۔

It is a long established fact that a reader will be distracted by the readable content of a page when looking at its layout. The point of using Lorem Ipsum is that it has a more-or-less normal distribution
Copyright BlazeThemes. 2023
Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.