/ Jun 17, 2026
Trending
وینزویلا کی عبوری صدر Delcy Rodríguez نے قوم سے ایک ہنگامی ٹیلی ویژن خطاب میں امریکی کارروائی کو وینزویلا کی خودمختاری پر براہِ راست حملہ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ صدر Nicolás Maduro کی گرفتاری کے پیچھے “واضح طور پر صہیونی رجحانات” کارفرما ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس غیر معمولی فوجی کارروائی میں Israel کے ممکنہ خفیہ تعاون یا انٹیلی جنس شراکت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
ڈیلسی روڈریگوز کے مطابق، وینزویلا نہ صرف ایک خودمختار ریاست ہے بلکہ اس پر اس نوعیت کی مداخلت بین الاقوامی قوانین، اقوامِ متحدہ کے منشور اور عالمی اخلاقیات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری، خاص طور پر لاطینی امریکہ، افریقہ اور ایشیائی ممالک سے اپیل کی کہ وہ اس اقدام کے خلاف واضح موقف اختیار کریں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، یہ الزام وینزویلا بحران کو محض ایک امریکی۔وینزویلا تنازعہ کے بجائے ایک عالمی طاقتوں کی کشمکش میں بدل رہا ہے، جہاں مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کے سائے لاطینی امریکہ تک پھیلتے دکھائی دے رہے ہیں۔
Haaretz کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق وینزویلا میں موجود انتہائی قلیل یہودی برادری نے صدر میادورو کی گرفتاری کے بعد کسی قسم کے جشن یا خوشی کا اظہار نہیں کیا۔
یہودی کمیونٹی کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ سیاسی تبدیلیاں متوقع ہیں، مگر موجودہ غیر یقینی صورتِ حال میں وہ اپنی سلامتی، سماجی تحفظ اور مستقبل کے حوالے سے شدید خدشات کا شکار ہیں۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں میں وینزویلا سے یہودیوں کی بڑی تعداد نقل مکانی کر چکی ہے، اور جو چند ہزار افراد باقی ہیں وہ کسی بھی سیاسی ہلچل میں سب سے پہلے متاثر ہو سکتے ہیں۔
کمیونٹی رہنماؤں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ عالمی سیاست میں “صہیونی کردار” کے الزامات مقامی سطح پر یہودیوں کے لیے مزید خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔
الف نیوز کے تجزیے کے مطابق، یہ خبر اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ طاقت کی سیاست کا سب سے پہلا بوجھ ہمیشہ اقلیتیں اٹھاتی ہیں — خواہ وہ کسی بھی خطے میں ہوں۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم Benjamin Netanyahu نے ایران میں جاری عوامی احتجاجات پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل “ایرانی عوام کی آزادی کی جدوجہد” کے ساتھ کھڑا ہے۔
انہوں نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا ہے جب ایران میں مہنگائی، سیاسی جبر اور معاشی بدحالی کے خلاف مظاہرے شدت اختیار کر چکے ہیں۔
Haaretz کے مطابق، نیتن یاہو کا یہ موقف صرف اخلاقی حمایت تک محدود نہیں بلکہ اسے مشرقِ وسطیٰ میں سیاسی دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
ایرانی حکام اس بیان کو اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دے رہے ہیں، جبکہ خطے کے دیگر ممالک محتاط خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بیانات کی یہ جنگ مستقبل میں سفارتی محاذ آرائی، پابندیوں اور بالواسطہ تصادم کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔
وینزویلا سے ایران تک پھیلی یہ خبریں ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں:
آج کی دنیا میں کوئی بحران تنہا نہیں رہتا — ہر زخم عالمی سیاست کے جسم میں گونج پیدا کرتا ہے۔
It is a long established fact that a reader will be distracted by the readable content of a page when looking at its layout. The point of using Lorem Ipsum is that it has a more-or-less normal distribution
Copyright BlazeThemes. 2023
Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.